مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 121 of 200

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم) — Page 121

121 ارشادات حضرت خلیفہ مسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی مشعل راه جلد پنجم حصہ چہارم مانتی، میرے ماں باپ کی نہ صرف عزت نہیں کرتی بلکہ ان کی بے عزتی بھی کرتی ہے، میرے بہن بھائیوں سے لڑائی کرتی ہے، بچوں کو ہمارے خلاف بھڑکاتی ہے، یا گھر سے باہر محلے میں اپنی سہیلیوں میں ہمارے گھر کی باتیں کر کے ہمیں بدنام کر دیا ہے۔تو اس بارے میں بڑے واضح احکام ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَالبَنی تَخَافُوْنَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوْهُنَّ وَاهْجُرُوْهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَيْهِنَّ سَبِيْلًا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا ( النساء : 35 ) اور وہ عورتیں جن سے تمہیں باغیانہ رویے کا خوف ہوان کو پہلے تو نصیحت کرو، پھر ان کو بستروں میں الگ چھوڑ دو پھر اگر ضرورت ہو تو انہیں بدنی سزا دو۔یعنی پہلی بات یہ ہے کہ سمجھاؤ، اگر نہ سمجھے اور انتہا ہوگئی ہے اور اردگرد بدنامی بہت زیادہ ہو رہی ہے تو پھر سختی کی اجازت ہے لیکن اس بات کو بہانہ بنا کر ذرا ذراسی بات پر بیوی پر ظلم کرتے ہوئے اس طرح مارنے کی اجازت نہیں کہ اس حد تک مارو کہ زخمی بھی کر دو، یہ انتہائی ظالمانہ حرکت ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کو ہمیشہ سامنے رکھنا چاہئے ، آپ نے فرمایا کہ اگر کبھی مارنے کی بھی ضرورت پیش بھی آ جائے تو مار اس حد تک ہو کہ جسم پر نشان نظر نہ آئے۔یہ بہانہ کہ تم میرے سامنے اونچی آواز میں بولی تھی ، میرے لئے روٹی اس طرح کیوں پکائی تھی ، میرے ماں باپ کے سامنے فلاں بات کیوں کی ، کیوں اس طرح بولی ، عجیب چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی ہیں، ان باتوں پر تو مارنے کی اجازت نہیں ہے۔پس اللہ کے حکموں کو اپنی خواہشوں کے مطابق ڈھالنے کی کوشش نہ کریں اور خدا کا خوف کریں۔دلوں میں کینے نہ پالو پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہاری بیوی نے ایک انتہائی قدم جو اٹھایا اور اس پر تمہیں اس کو سزا دینے کی ضرورت پڑی تو یا درکھو کہ اب اپنے دل میں کینے نہ پالو۔جب وہ تمہاری پوری فرمانبردار ہو جائے ، اطاعت کر لے تو پھر اس پر زیادتی نہ کرو۔فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَيْهِنَّ سَبِيْلًا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا ( النساء: 35)۔پس اگر وہ تمہاری اطاعت کریں تو پھر تمہیں ان پر زیادہ کا کوئی حق نہیں ہے۔یقینا اللہ بہت بلند اور بہت بڑا ہے۔یادرکھو اگر تم اپنے آپ کو عورت سے زیادہ مضبوط اور طاقتور سمجھ رہے ہوتو اللہ تعالیٰ تمہارے سے بہت بڑا ، مضبوط اور طاقتور ہے۔عورت کی تو پھر تمہارے سامنے کچھ حیثیت ہے بلکہ برابری کی ہی حیثیت ہے لیکن تمہاری تو خدا تعالیٰ کے سامنے کوئی حیثیت نہیں ہے، اس لئے اللہ کا خوف کرو اور اپنے آپ