مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 122 of 200

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم) — Page 122

مشعل راه جلد پنجم حصہ چہارم کو ان حرکتوں سے باز کرو۔122 ارشادات حضرت خلیفہ مسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی تنازعات حکمت کے ذریعہ دور کرنے کی کوشش کرو پھر یہ معاملات بھی اب سامنے آنے لگے ہیں کہ شادی ہوئی تو ساتھ ہی نفرتیں شروع ہو گئیں بلکہ شادی کے وقت سے ہی نفرت ہوگئی۔شادی کی کیوں تھی؟ اور بدقسمتی سے یہاں ان ملکوں میں یہ تعداد بہت زیادہ بڑھ رہی ہے، شاید احمد یوں کو بھی دوسروں کا رنگ چڑھ رہا ہے حالانکہ احمدیوں کو تو اللہ تعالیٰ نے خالص اپنے دین کا رنگ چڑھانے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائی تھی۔پس ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اگر مرضی کی شادی نہیں ہوئی تب بھی پہلے اکٹھے رہو، ایک دوسرے کو سمجھو، اس نصیحت پر غور کرو جس کے تحت تم نے اپنے نکاح کا عہد و پیمان کیا ہے کہ تقویٰ پر چلنا ہے، پھر سب کچھ کر گزرنے کے بعد بھی اگر نفرتوں میں اضافہ ہو رہا ہے تو کوئی انتہائی قدم اٹھاؤ اور اس کے لئے بھی پہلے یہ حکم ہے کہ آپس میں حکمنین مقرر کرو، رشتہ دار ڈالو، سوچو، غور کرو۔دونوں طرف کے فریقوں کو مختلف قسم کے احکام ہیں۔شادی ہو جائے تو ایک دوسرے کر برداشت کرو افسوس کی بات یہ ہے، گو بہت کم ہے لیکن بعض لڑکیوں کی طرف سے بھی پہلے دن سے ہی یہ مطالبہ آ جاتا ہے کہ ہماری شادی تو ہو گئی لیکن ہم نے اس کے ساتھ نہیں رہنا۔جب تحقیق کرو تو پتہ چلتا ہے کہ لڑکے یا لڑکی نے ماں باپ کے دباؤ میں آکر شادی تو کر لی تھی ورنہ وہ کہیں اور شادی کرنا چاہتے تھے۔تو ماں باپ کو بھی سوچنا چاہئے اور دو زندگیوں کو اس طرح برباد نہیں کرنا چاہئے۔لیکن لڑکوں کی ایک خاص تعداد ہے جو پاکستان ، ہندوستان وغیرہ سے شادی ہو کر ان ملکوں میں آتے ہیں اور یہاں آ کر جب کاغذات پکے ہو جاتے ہیں تو لڑکی سے نباہ نہ کرنے کے بہانے تلاش کرنے شروع کر دیتے ہیں، اس پر ظلم اور زیادتیاں شروع کر دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَعَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ فَإِنْ كَرِهْتُمُوْهُنَّ فَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوْا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللهُ فِيْهِ خَيْرًا كَثِيْرًا (النساء: 20) کہ ان سے نیک سلوک کے ساتھ زندگی بسر کرو اگر تم انہیں نا پسند کرو تو عین ممکن ہے کہ تم ایک چیز کونا پسند کرو اور اللہ اس میں بہت بھلائی رکھ دے۔پس جب شادی ہوگئی تو اب شرافت کا تقاضا یہی ہے کہ ایک دوسرے کو برداشت کریں، نیک سلوک کریں، ایک دوسرے کو سمجھیں، اللہ کا تقویٰ اختیار کریں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر اللہ کی بات مانتے ہوئے ایک دوسرے سے حسن