مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 92 of 200

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم) — Page 92

92 ارشادات حضرت خلیفہ مسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی مشعل راه جلد پنجم حصہ چہارم میں اس قابل ہوگی کہ اس کو باقیات صالحات کا مصداق کہیں۔لیکن اگر یہ خواہش صرف اس لئے ہو کہ ہمارا نام باقی رہے اور ہمارے املاک و اسباب کی وارث ہو یا وہ بڑی ہی نامور اور مشہور ہو، اس قسم کی خواہش میرے نزدیک شرک ہے۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 560-561 جدید ایڈیشن) پھر فرمایا کہ " غرض مطلب یہ ہے کہ اولاد کی خواہش صرف نیکی کے اصول پر ہونی چاہئے۔اس لحاظ سے اور خیال سے نہ ہو کہ وہ ایک گناہ کا خلیفہ باقی رہے۔اپنے بارے میں فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ مجھے کبھی اولاد کی خواہش نہیں ہوئی تھی۔حالانکہ خدا تعالیٰ نے پندرہ یا سولہ برس کی عمر کے درمیان ہی اولاد دے دی تھی۔یہ سلطان احمد اور فضل احمد قریباً اس عمر میں پیدا ہو گئے تھے۔اور نہ کبھی مجھے یہ خواہش ہوئی کہ وہ بڑے بڑے دنیا دار نہیں اور اعلیٰ عہدوں پر پہنچ کر مامور ہوں۔اولاد کے لئے دعا فرمایا: پھر ایک اور بات ہے کہ اولاد کی خواہش تو لوگ بڑی کرتے ہیں اور اولاد ہوتی بھی ہے مگر یہ کبھی نہیں دیکھا گیا کہ اولاد کی تربیت اور ان کو عمدہ اور نیک چلن بنانے اور خدا تعالیٰ کے فرمانبردار بنانے کی سعی اور فکر کریں۔نہ کبھی اُن کے لئے دعا کرتے ہیں اور نہ مراتب تربیت کو مد نظر رکھتے ہیں۔میری اپنی تو یہ حالت ہے کہ میری کوئی نماز ایسی نہیں ہے جس میں میں اپنے دوستوں اور اولا د اور بیوی کے لئے دعا نہیں کرتا۔بہت سے والدین ایسے ہیں جو اپنی اولادکو بری عادتیں سکھا دیتے ہیں۔ابتداء میں جب وہ بدی کرنا سیکھنے لگتے ہیں توان کو تنبیہ نہیں کرتے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ دن بدن دلیر اور بے باک ہوتے جاتے ہیں۔66 فرمایا: ” لوگ اولاد کی خواہش تو کرتے ہیں مگر نہ اس لئے کہ وہ خادم دین ہو۔بلکہ اس لئے کہ دنیا میں ان کا کوئی وارث ہو۔اور جب اولاد ہوتی ہے تو اس کی تربیت کا فکر نہیں کیا جا تا۔نہ اس کے عقائد کی اصلاح کی جاتی ہے اور نہ اخلاقی حالت کو درست کیا جاتا ہے۔یہ یاد رکھو کہ اس کا ایمان درست نہیں ہوسکتا جو اقرب تعلقات کو نہیں سمجھتا۔یعنی قریبی تعلقات اور رشتوں کو نہیں سمجھتا۔” جب وہ اس سے قاصر ہے تو اور نیکیوں کی