مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم) — Page 93
93 مشعل راه جلد پنجم حصہ چہارم ارشادات حضرت خلیفہ مسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی امید اس سے کیا ہو سکتی ہے؟ اللہ تعالیٰ نے اولاد کی خواہش کو اس طرح پر قرآن میں بیان فرمایا ہے رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِيْنَ اِمَامًا (الفرقان آیت : 75 ) یعنی خدا تعالیٰ ہم کو ہماری بیویوں اور بچوں سے آنکھ کی ٹھنڈک عطا فرمادے اور یہ تب ہی میسر آ سکتی ہے کہ وہ فسق و فجور کی زندگی بسر نہ کرتے ہوں بلکہ عبادالرحمن کی زندگی بسر کرنے والے ہوں اور خدا کو ہر شے پر مقدم کرنے والے ہوں۔اور آگے کھول کر کہہ دیا وَ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا اولا دا گر نیک اور متقی ہو تو ان کا امام ہی ہو گا۔اس سے گویا متقی ہونے کی بھی دعا ہے“۔(الحکم جلد 5 نمبر 35 مورخہ 24 ستمبر 1901 صفحہ 10-12 - ملفوظات جلد اول صفحہ 562-563 جدید ایڈیشن) پس یہ ہیں وہ معیار جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہر احمدی میں اس کی اولاد کے بارے میں دیکھنا چاہتے ہیں اور اس کے لئے آپ نے اس قرآنی حکم کے مطابق اولاد کو ڈھالنے کے لئے تربیت اور دعا پر بہت زور دیا تھا۔اور جیسا کہ آپ نے فرمایا ہے اس کے لئے ہر کوئی پہلے اپنی حالت بدلے ورنہ یہ دعا اپنے نفس کو دھوکہ ہے اور جھوٹ ہے۔اپنے نفس کو بھی دھوکہ دے رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو بھی دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔فرمایا کہ متقی اولاد کے لئے پہلے خود صالح اعمال بجالانے ہوں گے۔دعا کی قبولیت کے لئے اپنی وہ حالت بنانی ہوگی جس کا میں نے شروع میں ذکر کیا ہے۔جب یہ حالت بن جائے گی تو پھر انشاء اللہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے، دعائیں قبول ہوں گی۔پس ہر احمدی بچہ عمومی طور پر جماعت کی امانت ہے اور ہر وہ احمدی جس نے اپنے بچے وقف نو میں دیئے ہوئے ہیں کہ وہ دین کے خادم بنیں ، وہ اس گروہ میں شامل ہوں جو نیا کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلانے والا گروہ ہے، وہ ایسے بچوں کے باپ ہیں جنہوں نے ایک عمر کو پہنچنے کے بعد اسماعیل کی طرح اپنے آپ کو قربانی کے لئے پیش کیا ہے۔ایسی صورت میں اُن باپوں کو بھی تو وہ نمونہ دکھانا ہوگا جو حضرت ابراہیم کا نمونہ ہے۔الفضل انٹر نیشنل 13 اکتو بر تا 19 اکتوبر 2006ء)