مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 77
77 ارشادات حضرت خلیفہ لمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم کے لیے بھی فکر کی بات ہے اور ایک پکے اور بچے احمدی کے لیے بھی فکر کی بات ہے۔کیونکہ ان راہوں پر نہ چل کر جن پر چلنے کا اللہ اور اس کے رسول نے حکم دیا ہے، آگ کے گڑھے کی طرف بڑھنے کا خطرہ ہے۔پس آج ہر احمدی کو حبل اللہ کا صحیح ادراک اور فہم حاصل کرنے کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔صحابہ کی طرح قربانیوں کے معیار قائم کرنا حبل اللہ کو پکڑنا ہے۔ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنا حبل اللہ کو پکڑنا ہے۔قرآن کریم کے تمام حکموں پر عمل کرنا حبل اللہ کو پکڑنا ہے۔اگر ہرفرد جماعت اس گہرائی میں جا کر حبل اللہ کے مضمون کو سمجھنے لگے تو وہ حقیقت میں اس وجہ سے اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے راستے پر چلتے ہوئے ایک جنت نظیر معاشرے کی بنیاد ڈال رہا ہوگا۔جہاں بھائی بھائی کے حقوق بھی ادا ہور ہے ہوں گے ، میاں بیوی کے حقوق بھی ادا ہور ہے ہوں گے، ساسوں ، بہوؤں کے حقوق بھی ادا ہور ہے ہوں گے۔دوست دوست کے حق ادا کرتے ہوئے اس کی خاطر قربانی دے رہا ہوگا۔جماعت کا ہر فر د نظام جماعت کی خاطر قربانی دینے کے اعلیٰ معیار قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہو گا۔غرض کہ ایک ایسا معاشرہ قائم ہو گا جو مکمل طور پر خدا تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے والا معاشرہ ہوگا۔جس میں وہ لوگ بستے ہوں گے جو اس قرآنی آیت پر عمل کرنے والے ہیں۔فرمایا {الَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ وَالْكَاظِمِيْنَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ } (آل عمران : 135) یعنی وہ لوگ جو آسائش میں بھی خرچ کرتے ہیں اور تنگی میں بھی اور غصہ دیا جانے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں اور اللہ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔باہمی اخوت سے ایک رعب پیدا ہوتا ہے۔۔۔یہاں اس ملک میں آکر آپ میں سے بہتوں کے جو معاشی حالات بہتر ہوئے ہیں اس بات سے آپ کے دلوں میں ایک دوسرے کی خاطر مزید نرمی آنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ کے آگے سر مزید جھکنا چاہئے کہ اس نے احسان فرمایا اور اس احسان کا تقاضا یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی رسی کو مزید مضبوطی سے پکڑتے ہوئے اس کے حکموں پر عمل کیا جائے۔اپنے بھائیوں کے حقوق ادا کئے جائیں اور یوں اللہ کا پیار بھی حاصل کیا جائے۔اور جہاں ہم اس طرح اللہ تعالیٰ کا پیار حاصل کر رہے ہوں گے وہاں آپس کی محبت اور پیار اور ایک دوسرے کا خیال رکھنے کی وجہ سے آپس میں مضبوط بندھن میں بندھ رہے ہوں گے۔اور جب ہم اس طرح بندھے ہوں