مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 76 of 251

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 76

76 مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم ارشادات حضرت خلیفہ لمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ خلافت تمہاری مضبوطی ہوگی۔خلافت تمہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آنحضرت ﷺ کے واسطے سے اللہ تعالیٰ سے جوڑنے والی ہوگی۔پس اس رسی کو بھی مضبوطی سے پکڑے رکھو۔ورنہ جو نہیں پکڑے گا وہ بکھر جائے گا۔نہ صرف خود بر باد ہوگا بلکہ اپنی نسلوں کی بربادی کے سامان بھی کر رہا ہوگا۔اس لئے ہر وہ آدمی جس کا اس کے خلاف نظریہ ہے وہ ہوش کرے۔تین سال کے بعد انشاء اللہ تعالیٰ خلافت احمدیہ کو قائم ہوئے سو سال کا عرصہ ہو جائے گا اور جماعت اس جو بلی کو منانے کے لیے بڑے زور شور سے تیاریاں بھی کر رہی ہے۔اس کے لئے دعاؤں اور عبادات کا ایک منصوبہ میں نے بھی دیا ہے۔ایک تحریک دعاؤں کی ، نوافل کی میں نے بھی کی تھی۔تو بہت بڑی تعداد اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس پر عمل بھی کر رہی ہے۔حقوق العباد کے اعلیٰ معیار قائم کریں لیکن اگر ان باتوں پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ ہمیں حقوق العباد کے اعلیٰ معیارا دا کرنے کی طرف توجہ پیدا نہیں ہوتی تو یہ روزے بھی بریکار ہیں، یہ نوافل بھی بیکار ہیں ، یہ دعا ئیں بھی بیکار ہیں۔ہم جماعت کے عہدیداروں کو یہ رپورٹ تو دے دیں گے کہ خلیفہ وقت کو بتا دو کہ جماعت کے اتنے فیصد افراد نے روزے رکھے یا نوافل پڑھے یا دعا ئیں کر رہے ہیں اور اس پر عمل کر رہے ہیں۔لیکن جب آپس کے تعلقات نبھانے اور ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے ، ایک دوسرے کی خاطر قربانیاں دینے اور قربانیوں کے وہ نمونے قائم کرنے ، جن کی میں نے مثال دی ہے، کے بارے میں پوچھا جائے گا تو پتہ چلے گا کہ اس طرف تو توجہ ہی نہیں ہے۔یا اگر توجہ پیدا ہوئی بھی ہے تو اس حد تک ہوئی ہے جس حد تک اپنے حقوق متاثر نہیں ہوتے۔اس وقت تک حقوق ادا کرنے کی طرف توجہ پیدا ہوئی ہے جب تک اپنی ذات کی قربانی نہ دینی پڑے۔اس وقت تک توجہ پیدا ہوئی ہے جب تک اپنے مال کی قربانی نہ دینی پڑے۔اگر تو آپ کی توجہ صرف اس حد تک پیدا ہوئی ہے جہاں تک اپنے قریبیوں کے حقوق متاثر نہیں ہوتے۔اپنے اور اپنے قریبیوں کے مفاد حاصل کرنے کے لیے اگر غلط بیانی اور نا جائز ذرائع استعمال کر رہے ہوں اور اگر اس کو بھی کوئی عار نہ سمجھتے ہوں تو پھر حبل اللہ کو پکڑنے کے دعوے جھوٹے ہیں۔پھر تو خلافت احمد یہ کے احترام اور استحکام کے نعرے کھو کھلے ہیں۔پھر تو خلیفہ وقت کے لئے بھی فکر کی بات ہے۔نظام جماعت