مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 55 of 251

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 55

مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم 55 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ عہد یداران سے صرف نظر ہوگی لیکن پھر یا تو خلیفہ وقت کے دل میں اللہ تعالیٰ ڈال دے گا یا کسی اور ذریعہ سے اس عہد یدار سے خدمت کا موقع چھین لے گا، اس کو خدمت سے محروم کر دے گا۔پس تمام عہدیداران تقوی سے کام لیتے ہوئے ہمیشہ اپنے فرائض منصبی ادا کریں۔اور آپ کا کبھی کوئی فیصلہ کبھی کوئی کام نفسانی خواہشات کے زیراثر نہ ہو۔اللہ سب کو اس کی توفیق دے۔اللہ کے حکموں پر عمل کرنے والوں کا خلافت اور نظام سے تعلق گہرا ہے اللہ تعالی نے خلافت کے انعام سے فیض پانے والے ان لوگوں کو قرار دیا ہے جو نیک اعمال بھی بجا لانے والے ہوں۔پس خلافت سے تعلق مشروط ہے نیک اعمال کے ساتھ۔خلافت احمدیہ نے تو انشاء اللہ تعالی قائم رہنا ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے۔لیکن نظام خلافت سے تعلق انہیں لوگوں کا ہوگا جو تقویٰ پر چلنے والے اور نیک اعمال بجالانے والے ہوں گے۔اگر جائزہ لیں تو آپ کو نظر آ جائے گا کہ جن گھروں میں نمازوں میں بے قاعدگی نہیں ہے، ان کا نظام سے تعلق بھی زیادہ ہے۔جو اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل کرنے والے ہیں ان کا خلافت اور نظام سے تعلق بھی زیادہ ہے۔اور جن گھروں میں نمازوں میں بے قاعدگیاں ہیں، جن گھروں میں اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلنے میں وہ شدت نہیں ہے احمدی ہونے کے باوجود نظام جماعت کا احترام نہیں ہے، لوگوں کے حقوق صحیح طور پر ادا نہیں کرتے وہی لوگ ہیں جن کے گھروں میں بیٹھ کر خلیفہ وقت کے بارہ میں بعض منفی تبصرے بھی ہو رہے ہوتے ہیں۔تو اپنے آپ کو نظام جماعت اور جماعتی عہدیداران سے بالا بھی وہاں سمجھا جارہا ہوتا ہے۔ایسے لوگ تبصرے شروع کرتے ہیں عہد یداروں سے اور بات پہنچتی ہے خلیفہ وقت تک۔جب نظام جماعت کی طرف سے ان کے خلاف کوئی فیصلہ آتا ہے تو اس پر بجائے استغفار کرنے کے اعتراض ہورہے ہوتے ہیں۔حالانکہ نظام جماعت میں تو خلافت کی وجہ سے یہ سہولت میسر ہے کہ اگر کسی کو یہ خیال ہو کہ کوئی فیصلہ کسی فریق کی طرفداری میں کیا گیا ہے تو خلیفہ وقت کے پاس معاملہ لایا جاسکتا ہے۔اگر پھر بھی بعض شواہد یا کسی کی چرب زبانی کی وجہ سے فیصلہ کسی کے خلاف ہوتا ہے تو اس کو تسلیم کر لینا چاہئے اور بلا وجہ نظام پر اعتراض نہیں کرنا چاہئے۔کیونکہ یہ اعتراض تو بڑھتے بڑھتے بہت اوپر تک چلے جاتے ہیں۔ایسے موقعوں پر اس حدیث کو ہمیشہ ذہن میں رکھنا چاہئے ، پیش نظر رکھنا چاہئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر کوئی اپنی چرب زبانی کی وجہ سے میرے سے فیصلہ اپنے حق میں کروالیتا ہے