مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 56 of 251

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 56

مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم 56 ارشادات حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ حالانکہ وہ حق پر نہیں ہوتا تو وہ آگ کا گولہ اپنے پیٹ میں ڈال رہا ہوتا ہے۔یعنی اس وجہ سے وہ اپنے پر جہنم واجب کر رہا ہوتا ہے اور کوئی بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کو اس فعل کی وجہ سے اس دنیا میں بھی اذیت میں مبتلا رکھے۔اس کو کئی قسم کے صدمات پہنچ رہے ہوں مختلف طریقوں سے۔مختلف وجوہات سے وہ مشکلات میں گرفتار ہو جائے۔تو بہر حال جیسا کہ میں پہلے عہدیداران سے بھی کہہ آیا ہوں کہ انہیں انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے فیصلے کرنے چاہئیں۔لیکن فریقین سے بھی میں یہ کہتا ہوں کہ آپ بھی حسن ظنی رکھیں اور اگر فیصلے خلاف ہو جاتے ہیں تو معاملہ اللہ پر چھوڑ دیں۔اور جیسا کہ حدیث میں آیا ہے دوسرے فریق کو آگ کا گولہ پیٹ میں بھرنے دیں۔اور لڑائیوں کو طول دینے اور نظام جماعت سے متعلق جگہ جگہ باتیں کرنے کی بجائے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس تعلیم پر عمل کریں کہ بچے ہو کر جھوٹے کی طرح تذلل اختیار کرو۔اللہ تعالیٰ سب میں یہ حوصلہ پیدا فرمائے اور ہر ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے والا بن جائے۔نظام سلسلہ مظلوم احمدی عورتوں کی مدد کرے لیکن یہاں میں عہدیداران خاص طور پر امراء کے لئے ایک بات کی وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ ان مغربی ممالک میں جیسا کہ میں اپنے جلسے کی تقریر میں ذکر کر چکا ہوں عائلی یا میاں بیوی کے جھگڑوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔اور یہ جھگڑے ایسی نوعیت اختیار کر جاتے ہیں کہ علم ہونے اور ہمدردی ہونے کے باوجود نظام جماعت بعض پابندیوں کی وجہ سے کچھ نہیں کر سکتا۔کیونکہ بعض صورتوں میں ملکی قانون ایک فریق کو حق پر نہ ہونے کے باوجود اس کے شرعی حقوق کی وجہ سے بعض حق دے دیتا ہے۔اس لئے ایسے مرد جو ظلم کر کے اپنی بیویوں کو گھروں سے نکال دیتے ہیں۔یہ بھی نہیں دیکھتے کہ موسم کی شدت کیا ہے۔پھر ایسے ظالم باپ ہوتے ہیں کہ یہ بھی نہیں دیکھتے کہ اس موسم کی شدت میں ماں کی گود میں چند ماہ کا بچہ ہے۔تو ایسے لوگوں کے خلاف نظام جماعت کو عورت کی مدد کرنی چاہئے۔پولیس میں بھی اگر کیس رجسٹر کروانا پڑے تو کروانا چاہئے۔یہ نہیں دیکھنا چاہئے کہ ہم جماعت میں فیصلہ کر لیں گے اور باہر نہ نکلیں۔بعد میں اگر فیصلہ جماعت کے اندر کیا جا سکتا ہو تو کریں، کیس واپس لیا جا سکتا ہے۔لیکن ابتدائی طور پر ضرور رپورٹ ہونی چاہئے۔اور پھر جو لاوارث اور بے سہارا عورتیں ہیں، ان ملکوں میں آکر لاوارث بن جاتی ہیں کیونکہ والدین یہاں نہیں ہوتے ،مختلف غیروں کے گھروں میں رہ رہی ہیں ان کو بھی جماعت کو سنبھالنا چاہئے ، ان کی رہائش کا بھی