مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 37
مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم 37 ارشادات حضرت خلیفہ لمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ خطبہ جمعہ فرمودہ 10 جون 2005ء سے اقتباس مقام ابراہیم پر فائز ہونے کے لئے ذمہ داریاں حضرت ابراہیم نے اللہ تعالیٰ کی محبت میں شرک کے خلاف ایک عظیم جہاد کیا تھا اور مخالفین نے اس وجہ سے ان کو آگ میں بھی ڈالا تھا۔لیکن خدا تعالیٰ اپنے پیاروں کو اس طرح ضائع نہیں کرتا۔چنانچہ وہ آگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکی۔ہمیں بھی اپنا جائزہ لینا ہو گا کہ ایک طرف تو ہم اپنے آپ کو ابراہیم کی برکات کا حصہ دار بنانا چاہتے ہیں۔ہم اس زمانے کے ابراہیم کو مان کر ہر قسم کے شرک سے بے زاری کا اظہار کرنے کا نعرہ لگاتے ہیں۔لیکن مثلاً نمازوں کے اوقات ہیں۔چھوٹے چھوٹے بت اور خدا، نوکری کے، کاروبار کے سستیوں کے ہم نے بنائے ہوئے ہیں ان کے پنجے سے نکلنا نہیں چاہتے۔یا اس طرح نکلنے کی کوشش نہیں کرتے جس طرح کوشش کرنی چاہئے۔صرف منہ سے یہ کہ دینا کہ اے اللہ ہمیں مقام ابراہیم پر فائز کر دے، کوئی فائدہ نہیں دے گا جب تک کہ وہ محبت اپنے دل میں پیدا نہ کریں جو ابراہیم علیہ السلام کو اپنے خدا سے تھی۔جب تک ہم اپنے آپ کو مکمل طور پر خدا تعالیٰ کے احکامات کے سپرد نہ کر دیں۔جب تک ہم اپنے تمام معاملات خدا پر نہ چھوڑ دیں اور عبادتوں کے اعلیٰ معیار قائم کرنے کے ساتھ ساتھ جھوٹی اناؤں کو نہ چھوڑ دیں۔جب تک ہم اپنے خاندانوں اور برادری کی بڑائی کے تکبر سے باہر نہ نکلیں۔جب تک ہم اس چکر میں رہیں گے کہ میں سید ہوں یا مغل ہوں یا پٹھان ہوں یا جاٹ ہوں یا آرائیں ہوں، ان لفظوں سے جب تک باہر نہیں نکلیں گے جب تک ہم اپنے معیار اللہ تعالیٰ کے حکموں کے مطابق تقومی کو نہ بنالیں کوئی فائدہ نہیں۔تو جب ہم یہ ساری چیزیں کرلیں گے تب ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم مقام ابراہیم پر قدم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔تب ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس مقام پر قدم رکھتے ہوئے اپنے تمام معاملات خدا تعالیٰ کے سپرد کرتے ہیں۔تب ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی ہیں۔تب ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم وفاداروں