مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 20
20 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم گا اس نعمت کو بھی اٹھالے گا۔پھر اس کی تقدیر کے مطابق ایذاء رساں بادشاہت قائم ہوگی۔جب یہ دور ختم ہوگا تو اس سے بھی بڑھ کر جابر بادشاہت قائم ہوگی جب تک اللہ چاہے گا۔پھر اللہ اسے بھی اٹھا لے گا۔اس کے بعد پھر خلافت علی منہاج نبوت قائم ہوگی۔اور یہ فرما کر آپ خاموش ہو گئے۔(مشکوۃ۔باب الانذار والتحذیر) اور یہ جو دوبارہ قائم ہوئی تھی یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ سے ہی قائم ہوئی تھی۔پس یہ خاموش ہونا بتا تا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد جو سلسلہ خلافت شروع ہونا ہے یا ہونا تھا۔یہ دائگی ہے۔اور یہ الہی تقدیر ہے۔اور الہی تقدیر کو بدلنے پر کوئی فتنہ پرداز بلکہ کوئی شخص بھی قدرت نہیں رکھتا۔یہ قدرت ثانیہ یا خلافت کا نظام اب انشاء اللہ تعالیٰ قائم رہنا ہے۔اور اس کا آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفاء کے زمانہ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے اگر یہ مطلب لیا جائے کہ وہ تہیں سال تھی تو وہ تمہیں سالہ دور آپ کی پیشگوئی کے مطابق تھا۔اور یہ دائی دور بھی آپ ہی کی پیشگوئی کے مطابق ہے۔قیامت کے وقت تک کیا ہونا ہے یہ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔لیکن یہ بتا دوں کہ یہ دور خلافت آپ کی نسل در نسل در نسل اور بے شمار نسلوں تک چلے جانا ہے، انشاء اللہ تعالی ، بشرطیکہ آپ میں نیکی اور تقویٰ قائم رہے۔اسی لئے اس پر قائم رکھنے کے لئے میں پہلے دن سے ہی مسلسل تربیتی مضامین پر اپنے خطبات وغیرہ دے رہا ہوں۔یہ وعدہ یا خر جو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دی تھی اس کی تجدید حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خبر دے کر بھی اللہ تعالیٰ نے فرمائی ہے۔چنانچہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: غرض ( خدا تعالیٰ ) دو قسم کی قدرت ظاہر کرتا ہے۔اول خود نبیوں کے ہاتھ سے اپنی قدرت کا ہاتھ دکھاتا ہے۔دوسرے ایسے وقت جب نبی کی وفات کے بعد مشکلات کا سامنا پیدا ہو جاتا ہے اور دشمن زور میں آ جاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اب کام بگڑ گیا۔اور یقین کر لیتے ہیں کہ اب یہ جماعت نابود ہو جائے گی اور خود جماعت کے لوگ بھی تردد میں پڑ جاتے ہیں اور ان کی کمریں ٹوٹ جاتی ہیں اور کئی بدقسمت مرتد ہونے کی راہیں اختیار کر لیتے ہیں تب خدا تعالیٰ دوسری مرتبہ اپنی زبر دست قدرت ظاہر کرتا ہے اور گرتی ہوئی جماعت کو سنبھال لیتا ہے۔پس وہ جو اخیر تک صبر کرتا ہے خدا تعالیٰ کے اس معجزہ کو دیکھتا ہے۔جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیق کے وقت میں ہوا جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی موت ایک بے وقت موت مجھی گئی اور بہت سے باد یه نشین نادان مرتد ہو گئے۔( یعنی ان پڑھ، جاہل، گاؤں کے رہنے والے صحابہ بھی مارے غم کے دیوانہ