مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 19
مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم 19 ارشادات حضرت خلیفہ لمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی دعائیں کرنے کی بجائے اس تلاش میں رہتے ہیں کہ کہاں سے کوئی اعتراض تلاش کیا جائے۔ایک معترض کا بودا اعتراض اب مثلاً ایک صاحب نے مجھے لکھا، شروع کی بات ہے، کہ تم بڑی پلاننگ کر کے خلیفہ بنے ہو۔پلاننگ کیا تھی؟ کہ حضرت خلیفہ امسیح الرابع کی وفات کا اعلان الفضل اور ایم ٹی اے پر تمہاری طرف سے ہوتا تھا تا کہ لوگ تمہاری طرف متوجہ ہوں۔انا للہ۔یہ میری مجبوری تھی اس لئے کہ حسب قواعد مجھے ناظر اعلی ہونے کی حیثیت سے یہ کرنا تھا۔بہر حال جرات اس شخص میں بھی نہیں جس نے یہ لکھا کیونکہ یہ بے نام خط تھا۔تو ایسا شخص تو خود منافق ہے۔اگر خلافت پر اعتماد نہیں تو پھر احمدی رہنے کا بھی فائدہ نہیں۔اور اگر پھر بھی ایسا شخص اپنے آپ کو احمدی ثابت کرتا ہے تو وہ منافق ہے۔مختصر ابتا دوں کہ اس وقت میرا تو یہ حال تھا کہ جب نام پیش ہوا تو میں ہل کر رہ گیا تھا اور یہ دعا کر رہا تھا کہ کسی کا بھی ہاتھ میرے حق میں کھڑا نہ ہو۔اور اس تمام کارروائی کے دوران جو میری حالت تھی وہ میں جانتا ہوں یا میرا خدا جانتا ہے۔یہ تو بے وقوفوں والی بات ہے کسی کا یہ سوچنا کہ خلافت کے لئے کوئی اپنے آپ کو پیش کرے۔عموماً غیر مجھ سے پوچھتے ہیں تو اُن کو میں ہمیشہ حضرت خلیفہ مسیح الثالث کا یہ جواب دیا کرتا ہوں ، ان سے بھی کسی نے پوچھا تھا کہ کیا آپ کو پتہ تھا کہ آپ خلیفہ منتخب ہو جائیں گے۔تو ان کا جواب یہ تھا کہ کوئی عقلمند آدم یہ بھی سوچ بھی نہیں سکتا۔تو یہ صاحب لکھنے والے یا تو مجھے بیوقوف سمجھتے ہیں اور اپنی بات کی یہ خود ہی تردید بھی کر رہے ہیں ( جس سے لگتا ہے کہ یہ بیوقوف نہیں سمجھتے ) کیونکہ خود ہی کہہ رہے ہیں کہ تم نے بڑی ہوشیاری سے اپنا نام پیش کروایا۔بہر حال مختلف وقتوں میں شیطان اپنی چالیں چلتا رہتا ہے۔خلافت تا قیامت رہے گی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد سلسلہ خلافت کو ہمیشہ کے لئے قرار دیا ہے۔جیسا کہ اس حدیث سے ثابت ہے۔اب میں اس طرف آتا ہوں، وہ منی باتیں تھیں، کہ خلافت جماعت احمدیہ میں ہمیشہ قائم رہنی ہے۔حضرت حذیفہ بیان کرتے ہیں کہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں نبوت قائم رہے گی جب تک اللہ چاہے گا۔پھر وہ اس کو اٹھالے گا اور خلافت علی منہاج نبوت قائم ہوگی۔پھر اللہ تعالیٰ جب چاہے