مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 62 of 251

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 62

مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم 62 ارشادات حضرت خلیفہ لمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ خطبہ جمعہ فرمودہ 15 جولائی 2005ء سے اقتباسات * امانت و دیانت اور عہد کی پابندی آج آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور اسوہ کے جس پہلو کا میں ذکر کرنے لگا ہوں وہ ہے امانت و دیانت اور عہد کی پابندی۔یہ ایک ایسا خلق ہے جس کی آج ہمیں ہر طبقے میں، ہر ملک میں، ہر قوم میں کسی نہ کسی رنگ میں کمی نظر آتی ہے اور اس کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔بظاہر جو ایماندار نظر آتے ہیں، عہدوں کے پابند نظر آتے ہیں، جب اپنے مفاد ہوں تو نہ امانت رہتی ہے نہ دیانت رہتی ہے، نہ عہدوں کی پابندی رہتی ہے۔دو معیار اپنائے ہوئے ہیں لیکن ہمارے ہادی کامل صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل سے، اپنے اسوہ سے، اپنی امت کو ان باتوں کی پابندی کرتے ہوئے عمل کرنے کی نصیحت فرمائی ہے اور امانت و دیانت اور عہدوں کی پابندی کے اعلیٰ معیار قائم کئے ہیں۔اب وہی معیار ہیں جن پر چل کر انسان اللہ تعالیٰ کا قرب پاسکتا ہے۔اس سے باہر کوئی چیز نہیں۔ایک جنگ کے دوران کا ایک واقعہ بیان کرنا چاہتا ہوں جس سے معلوم ہوگا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی حالت میں، جبکہ یہ کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح دشمن کو ایسی حالت میں لایا جائے جس سے وہ مجبور ہو کر ہتھیار ڈال دے، آپ نے امانت و دیانت کے کیا اعلیٰ نمونے دکھائے اور تاریخ اس کی گواہ ہے۔جب اسلامی فوجوں نے خیبر کو گھیرا تو اس وقت وہاں کے ایک یہودی سردار کا ایک ملازم، ایک خادم، ایک جانور چرانے والا جانوروں کا نگران جانوروں سمیت اسلامی لشکر کے علاقے میں آ گیا اور مسلمان ہو گیا۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ ! میں تو اب مسلمان ہو گیا ہوں، واپس جانا نہیں چاہتا، یہ بکریاں میرے پاس ہیں، ان کا اب میں کیا کروں۔ان کا مالک یہودی ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان بکریوں کا منہ قلعے کی طرف پھیر کر ہانک دو۔وہ خود اس کے مالک کے پاس