مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 63 of 251

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 63

مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم 63 ارشادات حضرت خلیفہ لمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ پہنچ جائیں گی۔چنانچہ اس نے ایسے ہی کیا اور قلعہ والوں نے وہ بکریاں وصول کر لیں، قلعے کے اندر لے گئے تو دیکھیں یہ ہے وہ امانت و دیانت کا اعلیٰ نمونہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم کیا۔کیا آج کوئی جنگوں میں اس بات کا خیال رکھتا ہے۔نہیں، بلکہ معمولی رنجشوں میں بھی ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کی ، ایک دوسرے کا پیسہ مارنے کی اگر کسی نے کسی سے لیا ہوتو ، کوشش کی جاتی ہے۔یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی احساس تھا کہ اس حالت میں بھی جبکہ دشمن کے مال پر قبضہ مل رہا تھا، اس طرح کے قبضے کونا جائز سمجھا۔اس محاصرے کی وجہ سے، اس گھیرے کی وجہ سے جو قلعے کا تھا، باہر سے تو خوراک اندر جا نہیں سکتی تھی اور یہ بکریاں جو تھیں یہ قلعے والوں کے لئے کچھ عرصے کے لئے خوراک کا سامان مہیا کر سکتی تھیں۔محاصرہ لمبا بھی ہو سکتا تھا، لڑائی لمبی بھی ہو سکتی تھی لیکن پھر بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ برداشت نہ کیا کہ ایک شخص جو کسی کے مال کا امین بنایا گیا ہے اور اب مسلمان ہو چکا ہے وہ مسلمان ہو کر کسی خیانت کا مرتکب ہو۔اور اس شخص کو اسلام لاتے ہی پہلا سبق یہ دیا کہ امانت میں کبھی خیانت نہیں کرنی چاہئے۔جیسے بھی حالت ہو تم نے خدا تعالیٰ کے اس حکم کی ہمیشہ تعمیل کرنی ہے کہ اپنی امانتوں کی نگرانی کرو۔ان کو واپس لوٹاؤ۔اس نگرانی سے کبھی بے پرواہ نہ ہو۔پس یہ ہے ایسے حالات میں آپ کا امانت و دیانت کا اعلیٰ معیار۔اس وقت جب جنگ ہورہی تھی شاید مسلمانوں کو بھی خوراک کی ضرورت ہو اور وہ بکریاں ان کے کام آ سکتی تھیں اور بعضوں کے نزدیک شاید یہ جائز بھی ہو کہ یہ مال غنیمت کے زمرہ میں آتا ہے۔لیکن آپ نے فرمایا: نہیں یہ نا جائز ہے، خیانت ہے۔اور ناجائز اور خیانت سے لیا ہوا مال مسلمان پر حرام ہے۔میاں بیوی کے باہمی تعلقات بھی امانت ہیں پھر آپ نے جہاں امانت و دیانت کے یہ اعلیٰ نمونے دکھائے وہاں اُمت کو بھی نصیحت کی کہ اس کی مثالیں قائم کرو۔اور پھر چھوٹی سے چھوٹی بات میں بھی اس کا خیال رکھو۔مثلاً میاں بیوی کے تعلقات ہیں۔اس میں بھی آپ نے نصیحت فرمائی کہ یہ تعلقات امانت ہوتے ہیں ان کا خیال رکھو۔حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بڑی خیانت یہ شمار ہوگی کہ ایک آدمی اپنی بیوی سے تعلقات قائم کرے۔پھر وہ بیوی کے پوشیدہ راز لوگوں میں بیان کرتا پھرے۔(سنن ابی داؤد۔کتاب الادب باب في نقل الحدیث)