مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 34
34 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی مشعل را و جلد پنجم حصہ سوم شادی کے موقع پر ملیں تو وہ خوشی اور شکرانے کے جذبات سے مغلوب ہو جاتا ہے۔تو اس طرح بے شمار جگہیں ہیں جہاں بچت کی جاسکتی ہے۔اور جن کو اتنی توفیق ہے کہ وہ کہیں کہ ہم بچیوں کی شادیوں میں بھی مدد کر سکتے ہیں اس لئے ہمیں اس قسم کی چھوٹی بچت کی ضرورت نہیں ہے تو پھر ایسے لوگوں کو کم از کم جو خرچ وہ اپنے بچوں کی شادی پر کرتے ہیں اس کا ایک فیصد تو غریب کی شادی کی مدد کے لئے چندہ دینا چاہئے۔پاکستان میں بھی بہت سے لوگ ہیں جو بڑی فضول خرچی کرتے ہیں۔کچھ باہر سے جا کر کر رہے ہوتے ہیں اور کچھ وہاں رہنے والے کر رہے ہوتے ہیں۔یا جو فضول خرچی نہیں بھی کرتے ان کی ایسی توفیق ہوتی ہے کہ بچوں کی شادی میں مدد کر سکیں۔ان سب کو آگے آنا چاہئے اور اس نیک کام میں حصہ لینا چاہئے۔عموماً ایک غریبانہ شادی بھیس میں ہزار روپے کی مدد سے ہو جاتی ہے۔کچھ نہ کچھ تو انہوں نے خود بھی کیا ہوتا ہے۔اتنی مدد ہو جائے تو لوگوں کی بڑی مدد ہو جاتی ہے۔تو پھر یہ غریب آدمی کے لئے سکون کا باعث بن رہی ہوتی ہے اور آپ کو دعاؤں کا وارث بنارہی ہوتی ہے۔بہر حال ہر ایک کو حسب توفیق اس فنڈ میں ضرور حصہ لینا چاہئے۔اللہ تعالیٰ سب کو توفیق دے۔۔۔طاہر ہارٹ انسٹی ٹیوٹ کے لئے مالی قربانی کی تحریک۔میں آج ایک تحریک کرنا چاہتا ہوں خاص طور پر جماعت کے ڈاکٹر ز کو اور دوسرے احباب بھی عموماً، اگر شامل ہونا چاہیں تو حسب توفیق شامل ہو سکتے ہیں، جن کوتو فیق ہو، گنجائش ہو۔یہ طاہر ہارٹ انسٹیٹیوٹ کے لئے مالی قربانی کی تحریک ہے۔حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی ربوہ میں خلافت رابعہ کے شروع میں یہ خواہش تھی کہ یہاں ایک ایسا ادارہ ہو جو اس علاقے میں دل کی بیماریوں کے علاج کے لئے سہولت میسر کر سکے۔اس دور میں کچھ بات چلی بھی تھی لیکن پھر اس پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔بہر حال میرا خیال ہے کہ آخری دنوں میں حضور کی اس طرف دوبارہ توجہ ہوئی تھی لیکن خلافت خامسہ کے شروع میں اس پر کام شروع ہوا۔ایک ہمارے احمدی بھائی ہیں انہوں نے اپنے والدین کی طرف سے خرچ اٹھانے کی حامی بھری۔پھر امریکہ کے ایک احمدی ڈاکٹر بھی اس میں شامل ہوئے۔انہوں نے خواہش کی کہ میں بھی شامل ہونا چاہتا ہوں۔بہر حال نقشے وغیرہ بنائے گئے اور بڑی خوبصورت ایک چھ منزلہ عمارت تعمیر کی جارہی ہے جو اپنی تعمیر کے آخری مراحل میں ہے اور اس فیلڈ کے ڈاکٹر ماہرین کے مشوروں سے یہ سارا کام ہوا ہے۔وہ اس میں شامل ہیں۔خاص طور