مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 193
مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم 193 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ خطبه جمعه فرمودہ 17 مارچ 2006ء سے اقتباس * جب ظلم حد سے بڑھتا ہے تو خدا تعالیٰ کی لاٹھی چلتی ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آمد کیونکہ تمام دنیا کے لئے ہے، صرف مسلمانوں کے لئے نہیں ہے اس لئے غیر مسلموں کے لئے بھی ہمیں دعا کرنی چاہئے۔یہ امیر ملک بھی اگر غریب ملکوں کو اقتصادی فوائد حاصل کرنے کے لئے یا اپنے مفاد کو پورا کرنے کے لئے اپنا ز رنگیں کرنا چاہتے ہیں یا کر رہے ہیں تو یہ ظلم ہے۔اور حدیث میں آیا ہے کہ ظالم کی بھی مدد کرو۔اور ظالم کی مدد اس کے ظلم کے ہاتھ کو روک کر کی جاتی ہے۔تو ہاتھ سے تو ہم روک نہیں سکتے ، دعا کا ہی ذریعہ ہے۔اور دعا کی طاقت ہمارے پاس ہے لیکن یہ دعا کا بہت بڑا ہتھیار ہے اور اس کو ہمیں استعمال کرنا چاہئے اور جہاں تک ہوسکتا ہے ہمیں استعمال کرنا چاہئے۔تمام انسانیت کے لئے دعا کرنی چاہئے۔پھر رابطوں سے، ( دعوت الی اللہ ) سے اور اس کے بھی آج کل کے زمانے میں مختلف ذرائع ہیں ان لوگوں کو بتائیں کہ جن راستوں کی طرف تم جارہے ہو۔تمہاری حکومتیں تمہیں لے کر جا رہی ہیں یہ تباہی کے راستے ہیں۔جتنے اخراجات گولوں اور تباہی پھیلانے پر کئے جاتے ہیں اگر غریب ملکوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے اور صلح صفائی کی کوشش کے لئے کئے جائیں تو اگر تمہاری نیست نیک ہے اور حقیقت میں دنیا میں امن قائم کرنا چاہتے ہو جیسا کہ دعوی ہے تو اس سے آدھے اخراجات میں بھی شاید تم اپنے مقاصد حاصل کر لو۔امن کا نفرنسیں ذاتی مفاد کے لئے نہ ہوں بلکہ اصلاح کے لئے اور حقیقی امن قائم کرنے کے لئے ہوں۔خدا کرے کہ ان لوگوں کو عقل آجائے اور ان ملکوں کے عوام میں یہ احساس قائم ہو جائے کہ وہ اپنے ملکوں کے سربراہوں کو ، سیاستدانوں کو ان ظلموں سے روکیں ، باز رکھیں جو انہوں نے غیر ترقی یافتہ ملکوں سے، چھوٹے ملکوں سے روا رکھا ہوا ہے۔امن قائم کرنے کے بارے میں حضرت مصلح موعود نے ایک بڑا خوبصورت نکتہ بیان فرمایا ہے۔دنیا