مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 192 of 251

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 192

مشعل راه جلد پنجم حصه سوم 192 ارشادات حضرت خلیفہ لمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ اہل نجران کے امان نامہ کی بعض شقیں پھر اہل نجران کو جو امان نامہ آپ نے دیا اس کا بھی ذکر ملتا ہے اس میں آپ نے اپنے اوپر یہ ذمہ داری قبول فرمائی کہ مسلمان فوج کے ذریعہ سے ان عیسائیوں کی (جو نجران میں آئے تھے ) سرحدوں کی حفاظت کی جائے گی۔ان کے گرجے ان کے عبادت خانے ، مسافر خانے خواہ وہ کسی دور دراز علاقے میں ہوں یا شہروں میں ہوں یا پہاڑوں میں ہوں یا جنگلوں میں ہوں ان کی حفاظت مسلمانوں کی ذمہ داری ہے۔ان کو اپنے مذہب کے مطابق عبادت کرنے کی آزادی ہوگی اور اُن کی اس آزادی عبادت کی حفاظت بھی مسلمانوں پر فرض ہے اور آنحضرت ﷺ نے فرمایا کیونکہ اب یہ مسلمان حکومت کی رعایا میں اس لئے اس کی حفاظت اس لحاظ سے بھی مجھ پر فرض ہے کہ اب یہ میری رعایا بن چکے ہیں۔پھر آگے ہے کہ اسی طرح مسلمان اپنی جنگی مہموں میں انہیں (یعنی نصاری کو ) ان کی مرضی کے بغیر شامل نہیں کریں گے۔ان کے پادری اور مذہبی لیڈر جس پوزیشن اور منصب پر ہیں وہ وہاں سے معزول نہیں کئے جائیں گے۔اسی طرح اپنے کام کرتے رہیں گے۔ان کی عبادت گاہوں میں مداخلت نہیں ہوگی وہ کسی بھی صورت میں زیر استعمال نہیں لائی جائیں گی۔نہ سرائے بنائی جائیں گی نہ وہاں کسی کو ٹھہرایا جائے گا اور نہ کسی اور مقصد میں ان سے پوچھے بغیر استعمال میں لایا جائے گا۔علماء اور راہب جہاں کہیں بھی ہوں ان سے جزیہ اور خراج وصول نہیں کیا جائے گا۔اگر کسی مسلمان کی عیسائی بیوی ہوگی تو اسے مکمل آزادی ہوگی کہ وہ اپنے طور پر عبادت کرے۔اگر کوئی اپنے علماء کے پاس جا کر مسائل پوچھنا چاہے تو جائے۔گرجوں وغیرہ کی مرمت کیلئے آپ نے فرمایا کہ اگر وہ مسلمانوں سے مالی امداد لیں اور اخلاقی امداد لیں تو مسلمانوں کو مدد کرنی چاہئے کیونکہ یہ بہتر چیز ہے اور یہ نہ قرض ہوگا اور نہ احسان ہوگا بلکہ اس معاہدے کو بہتر کرنے کی ایک صورت ہوگی کہ اس طرح کے سوشل تعلقات اور ایک دوسرے کی مدد کے کام کئے جائیں۔تو یہ تھے آپ ﷺ کے معیار مذہبی آزادی اور رواداری کے قیام کیلئے۔اس کے باوجود آپ پر ظلم کرنے اور تلوار کے زور پر اسلام پھیلانے کا الزام لگانا انتہائی ظالمانہ حرکت ہے۔الفضل انٹر نیشنل 31 مارچ تا 6 اپریل 2006 ء )