مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 143 of 251

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 143

مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم 143 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ خطبه جمعه فرموده 18 نومبر 2005ء سے اقتباسات * أَوْفُوا الْكَيْلَ وَلَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُخْسِرِيْنَ وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِيْمِ۔وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَ هُمْ وَلَا تَعْثَوْا فِى الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ (الشعراء: 182-184) ماپ تول میں کمی ڈاکہ مارنے کے مترادف ہے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جہاں بھی حضرت شعیب کی قوم کا ذکر کیا ہے ان کو یہ نصیحت فرمائی کہ ماپ تول پورا دیا کرو کم تولنے کے لئے ڈنڈی مارنے کے طریقے اختیار نہ کرو کیونکہ تمہاری یہ بدنیتی ملک میں فساد اور بدامنی پھیلانے کا باعث بنے گی۔یہ آیات جو میں نے تلاوت کی ہیں یہ بھی اسی مضمون کی ہیں۔ان کا ترجمہ ہے کہ پورا پورا ماپ تو لو اور ان میں سے نہ بنو جو کم کر کے دیتے ہیں۔اور سیدھی ڈنڈی سے تو لا کرو۔اور لوگوں کے مال ان کو کم کر کے نہ دیا کرو۔اور زمین میں فسادی بن کر بدامنی نہ پھیلاتے پھرو۔اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: اور کسی طور سے لوگوں کو ان کے مال کا نقصان نہ پہنچاؤ اور فساد کی نیت سے زمین پر مت پھرا کرو۔یعنی اس نیت سے کہ چوری کریں یا ڈاکہ ماریں یا کسی کی جیب کتریں یا کسی اور ناجائز طریق سے بیگانہ مال پر قبضہ کریں۔تقریر جلسہ مذاہب۔بحوالہ تفسیر بیان فرمودہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الشعراءزیر آیت 184) تو یہ ماپ تول پورا نہ کرنا یا ڈنڈی مارنا، دیتے ہوئے مال تھوڑا تول کر دینا اور لیتے ہوئے زیادہ لینے کوشش کرنا یہ تمام باتیں چوری اور ڈاکے ڈالنے کے برابر ہیں۔اس لئے کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ کوئی بات نہیں تھوڑ اسا کاروباری دھوکہ ہے کوئی ایسا بڑا گناہ نہیں۔بڑے واضح طور پر فرمایا گیا ہے کہ خبر دار رہو، ہن لو کہ یہ بہت بڑا گناہ ہے۔