مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 139 of 251

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 139

مشعل راه جلد پنجم حصه سوم 139 ارشادات حضرت خلیفہ لمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ انسانیت کے ناطے احترام قائم ہوگا۔پس یہ عید عورتوں کو بھی خاص طور پر اپنی بہنوں سے، اپنی پڑوسنوں سے، محلے والیوں سے پیار محبت سے منانی چاہئے۔اور پھر اس نیکی کو جاری رکھنا چاہئے۔یہی نیکیاں ہیں جو اللہ تعالیٰ کا قرب دلانے والی ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث بنانے والی ہیں۔اردگرد کے لوگوں سے نیک سلوک کریں پھر فرمایا کہ اپنے ساتھ بیٹھنے والوں، اپنے ساتھیوں، اپنے ساتھ دفتر میں کام کرنے والوں بلکہ جوسفر میں اکٹھے ہوں ان سے بھی نیک سلوک کرو۔اس سے جہاں نیک سلوک کرنے والے کے اخلاق بہتر ہورہے ہوں گے۔وہاں وہ اللہ تعالیٰ سے ثواب بھی حاصل کر رہا ہوگا اور پھر ایک احمدی کے لئے تو اس طرح ( دعوت الی اللہ ) کے راستے مزید کھل رہے ہوں گے۔اب عید کے دن ہیں مختلف لوگوں کے دفتر میں کام کرنے والی جگہوں پر، ہمسائے وغیرہ ہیں، ان مغربی ممالک میں اگر ایسے ہمسایوں کو عید کے حوالے سے تحفے وغیرہ بھجوائے جائیں، چاہے چھوٹی سی کوئی چیز ہو، چاہے مٹھائی وغیرہ یا کچھ اس قسم کی چیز۔اور پھر اس طرح تعارف بڑھائیں اور ذاتی تعلق قائم ہوں تو دعوت الی اللہ بھی کر رہے ہوں گے۔اب یہیں UK میں مثلاً اگر دو ہزار گھر ہیں احمدیوں کے، شاید اس سے زیادہ ہوں گے۔وہ اپنے ہمسایوں کو یا اپنے کام کرنے کی جگہ کے ساتھیوں کو کوئی چھوٹا ساتحفہ ہی بھیجیں۔حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ سوکوس تک ہمسائیگی ہے تو سوکوس نہ سہی اگر پانچ چھ گھر تک بھی جاری رکھیں اور ایک دو کام کرنے والی جگہوں کے ساتھیوں کو چن لیں تو دس سے پندرہ ہزار گھروں تک ایک تعارف حاصل ہو جاتا ہے۔اس حوالے سے پھر احمدیت کی (دعوت الی اللہ ) کی طرف رستے کھلتے ہیں۔ذاتی رابطے جو ہیں یہی کارآمد ہوتے ہیں۔پھر یہ تعداد بڑھ سکتی ہے۔اسی طرح باقی دنیا کے ممالک ہیں۔مغربی ممالک میں خاص طور پر آپ ایسے رابطے کریں جہاں آپ خوشیاں منا رہے ہوں گے وہاں دعوت الی اللہ کا حق بھی ادا کر رہے ہوں گے اس کے بھی میدان حاصل کر رہے ہوں گے۔کچھ لوگ اس طرح کرتے بھی ہوں گے۔میں یہ نہیں کہتا کہ کوئی نہیں کرتا لیکن اگر با قاعدہ بڑی تعداد میں اس طرف توجہ دی جائے تو تعارف بہت بڑھ سکتا ہے۔محلے میں، علاقے میں جو اسلام کے خلاف بعض دفعہ اظہار ہورہا ہوتا ہے، مسلمانوں کے خلاف اظہار ہو رہا ہوتا ہے، ایشین سوسائٹی کے خلاف اظہار ہورہا ہوتا ہے۔تو چاہے وہ ایشین ہوں، افریقن ہوں، یورپین ہوں ، جب آپس میں اس طرح تعلقات بڑھائیں گے اور احمدی کی حیثیت