مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 122
122 ارشادات حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ مشعل راه جلد پنجم حصه سوم نہیں۔لجنہ بھی اپنے دائرے میں ذمہ دار ہے اور پوچھی جائے گی کہ اُس نے اپنی ذمہ داریاں ادا کی ہیں یا نہیں۔اور خدام بھی ذمہ دار ہیں اور پوچھے جائیں گے کہ انہوں نے اپنی ذمہ داریاں ادا کی ہیں یا نہیں۔اور خدام میں کیونکہ نو جوان لڑکے اور مرد شامل ہوتے ہیں جن میں زیادہ طاقت بھی ہوتی ہے اور صحت بھی اچھی ہوتی ہے، صلاحیت بھی ہوتی ہے اس لئے جماعتی ترقی کے لئے خدام کی بہترین تربیت اور فعال ہونا اور تمام پروگراموں میں حصہ لینا، تمام اُن باتوں پر عمل کرنا جو خلیفہ وقت کی طرف سے وقتا فوقتا کی جاتی ہیں، زیادہ ضروری ہے۔خدام ہی ہیں جنہوں نے مستقبل کی نسل کے باپ بننا ہے اور خدام ہی ہیں جن میں آئندہ نسل کے باپ موجود ہیں۔جو شادی شدہ ہیں اور بچوں والے ہیں وہ آئندہ نسل کے باپ ہیں۔اور ایک باپ کی اسی اہمیت کے پیش نظر آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا کہ اچھی تربیت سے بڑھ کر کوئی تحفہ نہیں ہے جو باپ اپنی اولا دکو دیتا ہے۔پس یہ تربیت بھی انگلی نسل کی تب ہی ہوگی جب آپ لوگ خود بھی اپنی تربیت کی طرف توجہ دے رہے ہونگے۔قوموں کی زندگی صرف ایک نسل کی زندگی نہیں ہوتی خدام الاحمدیہ میں 30-25 سال کی عمر سے لے کر 40 سال تک کے خدام اگر اپنی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اپنی تربیت کی طرف توجہ دے رہے ہونگے، اللہ تعالیٰ کے حقوق بھی ادا کر رہے ہو نگے اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے حقوق بھی ادا کر رہے ہونگے تو وہ نہ صرف یہ کہ اپنی اولادوں کی نیک تربیت ، بچپن سے کرنے کا ذریعہ بن رہے ہونگے بلکہ جو بالکل نوجوان خدام ہیں جو ان کے چھوٹے بھائیوں کا درجہ رکھتے ہیں ان کے سامنے وہ مثالیں قائم کر رہے ہونگے اور غیر محسوس طریق پر ان کی تربیت میں بھی حصہ لے رہے ہونگے۔یاد رکھیں کہ قوموں کی زندگی صرف ایک نسل کی زندگی نہیں ہوتی بلکہ ترقی کرنے والی قو میں، دنیا کو اپنے زیراثر لانے والی قومیں، ایک کے بعد دوسری نسل میں وہ روح پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہیں جن سے اُن کی ترقی کی رفتار کم نہ ہو اور جماعت احمد یہ تو یہ دعوی کرتی ہے کہ اُس نے آنحضرت ﷺ کے پیغام کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچانا ہے۔پس اپنی اصلاح اور تربیت کی طرف توجہ دیں گے تو اس اہم کام کو پورا کرنے والے بھی ہونگے۔اگر اس فکر سے آزاد ہونا ہے کہ قوم اصلاح کی طرف بڑھ رہی ہے اور ہر دن یہ خوش خبری دینے والا دن ہے۔ہر دن اس خوش خبری کے ساتھ طلوع ہورہا ہے کہ روحانی اور اخلاقی لحاظ سے قوم ترقی پذیر ہے تو اُس کا بہترین حل یہ