مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 226 of 251

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 226

مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم 226 ارشادات حضرت خلیفہ لمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی غلطیاں ہر ایک سے ہوتی ہیں۔آج زید سے غلطی ہوئی ہے تو کل بکر سے بھی ہوسکتی ہے اس لئے کینے دلوں میں رکھتے ہوئے کبھی کسی بات کے پیچھے نہیں پڑ جانا چاہئے۔ہر ایک میں کئی خوبیاں اور اچھائیاں بھی ہوتی ہیں وہ تلاش کرنے کی کوشش کریں۔یہی چیز ہے جس سے محبت اور پیار کی فضا پیدا ہوگی۔پس ہر ایک کو اپنے نمونے قائم کرنے کی ضرورت ہے چاہے وہ عہدیدار ہے یا عام احمدی ہے، مرد ہے یا عورت ہے۔اپنے اعلیٰ اخلاق کے نمونے قائم کریں۔جب غیر معمولی مثالی نمونے ہر جگہ قائم ہوں گے تو جماعت کی ( دعوت الی اللہ کے لحاظ سے بھی ترقی ہوگی اور تربیتی لحاظ سے بھی ترقی کرے گی۔آئندہ نسلیں بھی احمدیت کی تعلیم پر حقیقی معنوں میں قائم ہونے والی پیدا ہوں گی بلکہ یہ نسلیں جماعت کا ایک قیمتی اثاثہ بنیں گی۔زبان کا صحیح استعمال کریں زبان ایک ایسی چیز ہے جس کی وجہ سے محبتیں بھی پنپتی ہیں اور قتل و غارت بھی ہوتی ہے۔اس کا صحیح استعمال بھی انتہائی ضروری ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی شخص کے سوال پر اسلام کی یہ خوبی بیان فرمائی کہ وہ لایعنی باتوں کو چھوڑ دے۔بلا مقصد کی بے تکی باتوں کو چھوڑ دے ایسی باتوں کو چھوڑ دے، جن سے دوسروں کے لئے تکلیف کا باعث بنیں۔غیر پاکستانی احمدیوں کی شکایات کے ازالہ کی بابت بنیادی ہدایات یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے بلکہ چند ایک جو احمدی ہوئے ہیں ان کی شکایت بھی ہے کہ یہاں ( مراد آسٹریلیا) اکثریت کیونکہ پاکستانیوں کی ہے یہ ہمیں اپنے اندر جذب نہیں کرتے۔اجلاس وغیرہ میں بھی ایسی زبان ہونی چاہئے کہ جو یہاں کی زبان ہے یعنی انگریزی میں کارروائی ہوتا کہ جو یہاں جزائر سے آئے ہوئے احمدی ہیں وہ بھی سمجھ سکیں۔گوا کثر کو اردو بھی آتی ہے لیکن انگریزی میں زیادہ آسانی ہے۔یہاں کے رہنے والے بھی ہیں جو بچے یہاں پلے بڑھتے ہیں ان کو بھی انگریزی زبان زیادہ سمجھ آجاتی ہے۔سوائے چند ایک بڑی بوڑھیوں کے یا بوڑھوں کے یا ان پڑھوں کے، جن کو سمجھ نہیں آتی ان کے لئے ترجمے کا انتظام ہوسکتا ہے۔یا مختصراً اُردو میں کوئی پروگرام ہو سکتا ہے۔تو بہر حال غیر پاکستانی احمدیوں کے یہ شکوے دور ہونے چاہئیں کہ ہم یہاں آکر یوں محسوس کرتے ہیں جس طرح ہم جماعت کا حصہ نہیں ہیں یہ بہت خطرناک صورت ہوسکتی ہے۔ان نئے آنے والوں سے کام بھی لیں ، ان کے شکوے دور کریں۔میں نے جائزہ لیا ہے، ان نئے