مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 227
227 ارشادات حضرت خلیفہ لمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم آنے والوں کے لئے بعض سے میں نے یہ پوچھا ہے یہ کس حد تک صحیح ہے، بہر حال مجھے ان سے جو معلومات ملی ہیں یہی ہیں کہ یہاں ان کو باقاعدہ کوئی سکھانے کا انتظام نہیں ہے۔عورتوں کے لئے دینی تربیت کا تعلیم کا انتظام لجنہ کرے۔مردوں کے لئے ذیلی تنظیمیں انتظام کریں، مجموعی طور پر جماعت جائزہ لے۔اگر اس سلسلے میں ذیلی تنظیمیں پوری طرح فعال نہیں تو جماعتی نظام کے تحت انتظام ہو اور نگرانی ہو۔اور جو ذیلی تنظیمیں ست ہیں ان کے بارے میں مجھے اطلاع بھی دیں۔تو جب اس طرح کام کریں گے تبھی ہر احمدی کو جماعت کا فعال حصہ بنائیں گے۔جیسا کہ میں پہلے بھی کہ چکا ہوں بعض فجین احمدیوں کو بھی شکوہ ہے کہ بعض دفعہ یہاں آکر وہ اپنے آپ کو اوپر محسوس کرتے ہیں۔تو ان سے میں کہتا ہوں اس کا ایک یہ بھی علاج ہے۔وہ احمدی ہوئے ہیں انہوں نے زمانے کے امام کو مانا ہے اور سمجھا ہے وہ اپنے آپ کو اتنا زیادہ جماعتی کاموں میں لگائیں کہ انتظامیہ ان سے کام لینے پر مجبور ہو۔( دعوت الی اللہ ) کا بہت بڑا میدان خالی پڑا ہے۔ہر احمدی کے لئے کھلا ہے۔اس میں آگے بڑھیں ذاتی رابطے کر کے اور طریقے اپنا کر ( دعوت الی اللہ ) کا کام کریں۔اس کام کو زیادہ سے زیادہ وسعت دیں۔مردوں میں تو میں نے دیکھا ہے اللہ کے فضل سے نوجوانوں میں دوسری قوموں کے بھی کافی لڑکے کام کرنے والے ہیں۔بعض عورتوں اور بڑی عمر کے لوگوں کو اور عورتوں کو خاص طور پر چاہئے اپنی استعدادوں کے مطابق اور اپنے دائرے کے مطابق ( دعوت الی اللہ ) کے میدان میں آگے آئیں۔ذیلی تنظیموں کو جائزہ لینا چاہیے کہ شکوے کیوں پیدا ہوتے ہیں بہر حال انصار اللہ کی تنظیم اور لجنہ اماءاللہ ی تنظیم اور خدام الاحمدیہ کی تنظیم ان سب کو جائزے لینے چاہئیں کہ کیوں یہ شکوے پیدا ہوتے ہیں۔چاہے وہ دو چار کی طرف سے ہی ہوں۔لیکن شکوے رکھنے والے بے چینی پیدا کرنے کا باعث بن جاتے ہیں۔انصار اللہ کے صدر بھی شاید نجی کے رہنے والے ہیں۔وہ آسانی سے اپنے لوگوں کی نفسیات دیکھ کر پروگرام بنا سکتے ہیں۔لجنہ کو بھی جائزے لینے کی ضرورت ہے۔غیر پاکستانی احمد یوں کی یا ایسے نوجوان پاکستانیوں کی جو لمبے عرصہ سے ملک سے باہر ہیں اور ان کا معاشرہ بالکل بدل چکا ہے ان کی فہرست بنائیں اور پھر دیکھیں کہ ان کو کس طرح جماعت کا فعال حصہ بنایا جاسکتا ہے۔اپنی کوشش کریں تا کہ ان کے شکوے دور ہو جائیں۔بہر حال اس کے لئے جس طرح میں پہلے کہہ چکا ہوں دونوں طرف سے دلوں