مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 210 of 251

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 210

مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم 210 ارشادات حضرت خلیفہ لمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی کہ سال کے شروع میں جماعتوں میں بنتے ہیں۔اور بجٹ بہر حال صحیح آمد پہ بننا چاہئے۔اس کے بعد اگر توفیق نہیں تو چندوں کی چھوٹ لی جاسکتی ہے۔نومبائعین کو مالی نظام میں شامل کریں پھر ایک اور بات ہے جس کی طرف میں عرصے سے توجہ دلا رہا ہوں کہ نو مبائعین کو مالی نظام میں شامل کریں۔یہ جماعتوں کے عہدیداروں کا کام ہے۔جب نو مبائعین مالی نظام میں شامل ہو جائیں گے تو جماعتوں کے یہ شکوے بھی دور ہو جائیں گے کہ نو مبائعین سے ہمارے رابطے نہیں رہے۔یہ رابطے پھر ہمیشہ قائم رہنے والے رابطے بن جائیں گے اور یہ چیز ان کے تربیت اور ان کے تقویٰ کے معیار بھی اونچے کرنے والی ہوگی۔تو جیسا کہ میں نے کہا کہ قرآن کریم میں مالی قربانیوں کے بارے میں بے شمار ہدایات ہیں۔تو اللہ تعالیٰ جو بھی فضل فرماتا ہے ان کو اس میں بھی شامل کرنا چاہئے۔زکوۃ کی ادائیگی ضرور کریں پھر ز کوۃ کی ادائیگی کے بارے میں بعض سوال ہوتے ہیں۔یہ بنیادی حکم ہے۔جن پر زکوۃ واجب ہے ان کو ضرور ادا کرنی چاہئے اور اس میں بھی کافی گنجائش ہے۔بعض لوگوں کی رقمیں کئی کئی سال بنکوں میں پڑی رہتی ہیں اور ایک سال کے بعد بھی اگر رقم جمع ہے تو اس پر بھی زکوۃ دینی چاہئے۔پھر عورتوں کے زیورات ہیں ان پر زکوۃ دینی چاہئے۔جو کم از کم شرح ہے اس کے مطابق ان زیورات پر زکوۃ ہونی چاہئے۔پھر بعض زمینداروں پر زکوۃ واجب ہوتی ہے ان کو اپنی زکوۃ ادا کرنی چاہئے۔تو یہ ایک بنیادی حکم ہے اس پر بہر حال توجہ دینے کی ضرورت ہے۔الفضل انٹرنیشنل 21 تا 27 اپریل 2006 ء )