مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 211
مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم 211 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ خطبه جمعه فرمودہ 7 اپریل 2006ء سے اقتباس حیا ایمان کا حصہ ہے * ایک حکم ہے حیا کا، عورت کو خاص طور پر پردے کا حکم ہے۔مردوں کو بھی حکم ہے کہ غض بصر سے کام لیں، حیاد کھائیں۔عورت کے لئے اس لئے بھی پردے کا حکم ہے کہ معاشرے کی نظروں سے بھی محفوظ رہے اور اس کی حیا بھی قائم رہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ حیا ایمان کا حصہ ہے۔اب آج کل کی دنیا میں، معاشرے میں، ہر جگہ ہر ملک میں بہت زیادہ کھل ہو گئی ہے۔عورت مرد کو حدود کا احساس مٹ گیا ہے۔Mix Gatherings ہوتی ہیں یا مغرب کی نقل میں لباس پوری طرح ڈھکا ہوا نہیں ہوتا ، یہ ساری اس زمانے کی ایسی بے ہودگیاں ہیں جو ہر ملک میں ہر معاشرے میں راہ پا رہی ہیں۔یہی حیا کی کمی آہستہ آہستہ پھر مکمل طور پر انسان کے دل سے، پکے (مومن ) کے دل سے، حیا کا احساس ختم کر دیتی ہے اور جب انسان اللہ تعالیٰ کے ایک چھوٹے سے حکم کو چھوڑتا ہے تو پھر آہستہ آہستہ حجاب ختم ہوتا چلا جاتا ہے اور پھر بڑے حکموں سے بھی دوری ہوتی چلی جاتی ہے اور آہستہ آہستہ اللہ تعالیٰ کی عبادت سے بھی دوری بھی ہو جاتی ہے۔اور پھر انسان اسی طرح آخر کار اپنے مقصد پیدائش کو بھلا بیٹھتا ہے۔اس لئے اس زمانے میں خاص طور پر نو جوان نسل کو بہت احتیاط کرنی چاہئے۔ہر وقت دل میں یہ احساس رکھنا چاہئے کہ ہم اس شخص کی جماعت میں شمار ہوتے ہیں جو آنحضرت ﷺ کی پیشگوئی کے مطابق بندے کو خدا کے قریب کرنے کا ذریعہ بن کر آیا تھا۔پس اگر اُس سے منسوب ہونا ہے تو پھر اُس کی تعلیم پر بھی عمل کرنا ہوگا اور وہ تعلیم ہے کہ قرآن کریم کے چھوٹے سے چھوٹے حکم کی بھی تعمیل کرنی ہے۔اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو توفیق دے کہ وہ اس پر عمل کرنے والا بن الفضل انٹرنیشنل 28 اپریل تا 4 مئی 2006ء) جائے۔