مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 141 of 251

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 141

مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم 141 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ خطبه جمعه فرموده 11 نومبر 2005ء سے اقتباس * يبَنِي آدَمَ قَدْ أَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُوَارِي سَوْا تِكُمْ وَرِيْشًا وَلِبَاسُ التَّقْوَى ذَلِكَ خَيْرٌ۔ذلِكَ مِنْ ايَتِ اللهِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُوْنَ (سورة الاعراف (27) بنِي آدَمَ خُذُوا زِيْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلّ مَسْجِدٍ وَكُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلَا تُسْرِفُوْا إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ (سورة الاعراف: 32) کھانے پینے میں اسراف سے بچیں اسی آیت میں جو میں نے تلاوت کی ہے۔زینت اور لباس تقوی کے ذکر کے بعد فرمایا کہ کھاؤ اور بیولیکن حد سے تجاوز نہ کرو۔ایک تو اس کا یہ مطلب ہے کہ کیونکہ خوراک کا بھی انسانی ذہن پر اثر پڑتا ہے طبیعت پر اثر پڑتا ہے۔خیالات میں سوچوں پر اثر پڑتا ہے اس لئے پاکیزہ ،صاف اور حلال غذا کھاؤ تا کہ کسی بھی لحاظ سے تمہارے سے کوئی ایسا فعل سرزد نہ ہو جو تمہیں تقویٰ سے دور لے جانے والا ہو۔جن چیزوں کے کھانے سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے ان کے کھانے سے رک جاؤ۔جن چیزوں کے پینے سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے ان کے پینے سے رک جاؤ۔کیونکہ ان کا کھانا اور پینا اس حکم کے تحت نا جائز ہے۔اگر کھاؤ پیو گے تو اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کرو گے۔اسراف کا ایک مطلب گھن لگنا بھی ہے۔آج کل دیکھ لیں بہت سی بیماریاں جو پیدا ہو رہی ہیں اس خوراک کی وجہ سے پیدا ہورہی ہیں۔ٹھیک ہے اور بہت سے عوامل بھی ہیں لیکن جب علاج ہورہا ہوتو ڈاکٹروں کی تان دوائیوں کے علاوہ خوراک پہ بعض دفعہ آ کے ٹوٹتی ہے۔اور اس زمانے میں جبکہ انسان بہت زیادہ تن آسان ہو گیا ہے سنتی اور آرام کی اتنی زیادہ عادت پڑ گئی ہے یہ خوراک ہی ہے جو کئی بیماریاں پیدا کرتی ہے۔یہاں یورپ میں بھی کہتے ہیں کہ جو برگر وغیرہ زیادہ کھانے والے لوگ ہیں ان کو انتڑیوں کی بعض