مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 121 of 251

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 121

121 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم تک کسی قوم کے ہر طبقے کو اور ہر فرد کو اپنی اہمیت کا احساس نہ ہو جائے کہ ہم جماعت کا ایک حصہ ہیں جس کے ساتھ جماعت کی ساکھ اور ترقی وابستہ ہے، اس وقت تک وہ ترقی کی روح نہیں پیدا ہوتی۔ترقی کی روح تب ہی پیدا ہوتی ہے جب قوم کے ہر طبقے میں یہ احساس ہو جائے کہ ہماری ایک اہمیت ہے۔پھر تو میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ترقی کی منازل طے کرتی چلی جاتی ہیں۔وہ ترقی کی منازل طے کرتی چلی جانے والی قومیں ہوتی ہیں۔اس لئے حضرت مصلح موعود نے جنہوں نے جماعت کی تمام ذیلی تنظیموں کی بنیاد ڈالی تھی وہ فرمایا کرتے تھے کہ جس جماعت کی ذیلی تنظیمیں بھی فعال ہوں اور جماعتی نظام بھی فعال ہو، اس جماعت کی رفتار ترقی کی رفتار کئی گنا ہو جاتی ہے۔بعض اوقات ستی کو احتیاط کا نام دے دیا جاتا ہے اور پھر یہ بھی فائدہ ہے کہ ان تمام تنظیموں کا کہ اگر کہیں جماعتی نظام میں ٹھہراؤ کی کیفیت پیدا ہو جائے کیونکہ بعض دفعه بعض جماعتوں کے عہدیدار بڑی عمر کے ہونے کی وجہ سے احتیاطوں اور می ور مصلحتوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ٹھیک ہے احتیاطیں اور مصلحتیں بھی ہونی چاہئیں کیونکہ مومن کا ہر قدم عقل سے اٹھنے والا قدم ہونا چاہیے لیکن بعض دفعہ بستیوں کو بھی احتیاطوں کا نام دیدیا جاتا ہے۔تو بہر حال اگر کہیں مرد سست ہیں تو عورتیں بعض دفعہ بالجنہ بعض دفعہ active ہو جاتی ہے اور کچھ نہ کچھ ترقی تو ہوتی رہتی ہے۔کہیں عورتیں اور بوڑھے سُست ہوں تو وہاں نوجوان active ہوتے ہیں، خدام active ہوتے ہیں اور جماعت میں ترقی کی رفتار نظر آتی رہتی ہے۔کہیں ذیلی تنظیمیں اگر سُست ہوں اور جماعتی نظام یعنی صدر جماعت، امیر جماعت وغیرہ چست ہوں تو وہاں بھی جماعتی ترقی ہوتی رہتی ہے اور جیسا کہ میں نے کہا جماعتی مرکزی نظام یعنی اس جگہ کا جو جماعتی نظام ہے اور ذیلی تنظیمیں یہ سب فعال ہوں، ایک دوسرے سے تعاون کر رہی ہوں ہل جُل کر بھی اور اپنے دائرے میں بھی رہ کر اپنی تنظیموں کے تحت بھی تربیتی علمی اور (دعوت الی اللہ کے ) پروگرام بنا رہی ہوں تو وہاں جماعت کی رفتار کئی گنا ہو جاتی ہے۔اب دوروں پہ جب بھی میں جاتا ہوں تو اسی نظر سے جب جائزہ لیتا ہوں تو سو فیصد یہ بات سچ ثابت ہوتی ہے کہ وہی جماعتیں ہر لحاظ سے ترقی کرتی ہوئی نظر آتی ہیں جہاں ہر طبقے کا جماعتی نظام فعال ہے اور اپنا اپنا کردارادا کر رہا ہے۔پس اس لحاظ سے انصار بھی ذمہ دار ہیں اور پوچھے جائیں گے کہ انہوں نے اپنی ذمہ داریاں ادا کی ہیں یا