مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 108 of 251

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 108

مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم 108 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کریم سے رشد ہدایت اور فیض حاصل کرنے والے با تخصیص متقیوں کو ہی ٹھہرایا ہے۔“ آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۹۳۱) یعنی خاص طور پر جو تقویٰ میں بڑھنے والے ہوں گے وہی قرآن کریم سے رہنمائی حاصل کریں گے۔سب روزانہ تلاوت کی عادت ڈالیں ایک حدیث میں آتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب بھی کوئی قوم قرآن کریم پڑھنے کے لئے اور ایک دوسرے کو پڑھانے کے لئے خدا تعالیٰ کے گھروں میں سے کسی گھر میں اکٹھی ہوتی ہے تو ان پر سکینت نازل ہوتی ہے اور رحمت ان کو ڈھانپ لیتی ہے اور فرشتے ان کے گرد حلقے بنا لیتے ہیں۔(سنن ابی داؤد۔کتاب الوتر باب في ثواب قرآة القرآن) پس اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جذب کرنے کے لئے اور فرشتوں کے حلقے میں آنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم میں سے ہر ایک قرآن کریم پڑھے اور اس کو سمجھے ، اپنے بچوں کو پڑھائیں ، انہیں تلقین کریں کہ وہ روزانہ تلاوت کریں۔اور یاد رکھیں کہ جب تک ان چیزوں پر عمل کرنے کے ماں باپ کے اپنے نمونے بچوں کے سامنے قائم نہیں ہوں گے اس وقت تک بچوں پہ اثر نہیں ہو گا۔اس لئے فجر کی نماز کے لئے بھی اٹھیں اور اس کے بعد تلاوت کے لئے اپنے پر فرض کریں کہ تلاوت کرنی ہے پھر نہ صرف تلاوت کرنی ہے بلکہ توجہ سے پڑھنا ہے اور پھر بچوں کی بھی نگرانی کریں کہ وہ بھی پڑھیں، انہیں بھی پڑھائیں۔جو چھوٹے بچے ہیں ان کو بھی پڑھایا جائے۔غرائب کیا ہیں؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قرآن کریم پڑھنے کا طریقہ بھی سکھایا ہے، کس طرح پڑھنا ہے۔آپ نے فرمایا کہ قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر صاف صاف پڑھو اور اس کے غرائب پر عمل کرو۔(مشکوۃ المصابیح) غرائب سے مراد اس کے وہ احکام ہیں جو اللہ تعالیٰ نے فرض کئے ہیں اور وہ احکام ہیں جن کو کرنے سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔جب قرآن کریم اس طرح ہر گھر میں پڑھا جا رہا ہوگا، غور ہو رہا ہوگا، ہر حکم جس کے کرنے کا خدا تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے اس پر عمل ہو رہا ہو گا اور ہر وہ بات جس کے نہ کرنے کا اللہ تعالیٰ کا حکم