مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 107
107 ارشادات حضرت خلیفہ لمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِيْن } کی دعا مانگتے ہیں کہ اے خدا ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں یا تیری ہی عبادت کرنا چاہتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں کہ ہمیں عبادت کرنے والا بنا۔اور جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والا ہے یقیناً اس کو ہر قسم کے شرک سے پاک ہونا چاہئے۔پس اس لحاظ سے بھی ہر احمدی کو اپنے دل کو ٹولنا چاہئے کہ ایک طرف تو ہم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والا بننے کی خدا تعالیٰ سے دعا مانگ رہے ہیں دوسری طرف دنیا داری کی طرف ہماری نظر اس طرح ہے کہ ہم اپنی نمازیں تو چھوڑ دیتے ہیں لیکن اپنے کام کا حرج نہیں ہونے دیتے۔اللہ تعالیٰ تو کہتا ہے کہ میں رازق ہوں اور اپنی عبادت کرنے والوں کے لئے رزق کے راستے کھولتا ہوں لیکن ہم منہ سے تو یہ کہتے ہیں کہ یہ بات سچ ہے، حق ہے لیکن ہمارے عمل اس کے الٹ چل رہے ہیں۔اُس وقت جب ایک طرف نماز بلا رہی ہو اور دوسری طرف دنیا کا لالچ ہو، مالی منفعت نظر آ رہی ہو تو ہم میں سے بعض رالیں ٹپکاتے ہوئے مال کی طرف دوڑتے ہیں۔اس وقت یہ دعوے کھو کھلے ہوں گے کہ ہم ایک خدا کی عبادت کرنے والے ہیں۔پس جماعت کے ہر طبقے ، عورت، مرد، بچے ، بوڑھے، جوان ، ہر ایک کو اپنا اپنا جائزہ لینا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مان کر کیا روحانی تبدیلی ہم میں پیدا ہوئی ہے۔کیا ہماری عبادتوں کے معیار بڑھے ہیں یا وہیں کھڑے ہیں یا گر رہے ہیں، کہیں کمی تو نہیں آ رہی۔جب ہر کوئی خود اس نظر سے اپنے جائزے لے گا تو انشاء اللہ عبادتوں کے معیار میں یقیناً بہتری پیدا ہوگی۔قرآن کریم کا پڑھنا اور اُس پر عمل کرنا ضروری ہے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ ذلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيْهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ } (البقرۃ)۔یہ وہ کتاب ہے اس میں کوئی شک نہیں ، ہدایت دینے والی ہے متقیوں کو۔پس جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے۔اپنے رب کی عبادت کرو تو تقویٰ میں بڑھو گے۔اور تقویٰ میں بڑھنے کے لئے قرآن کریم جو خدا کا کلام ہے اس کو بھی پڑھنا ضروری ہے ، اس پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔پس تقویٰ اس وقت تک مکمل نہیں ہو گا جب تک قرآن کریم کو پڑھنا اور اس پر عمل کرنا زندگیوں کا حصہ نہ بنالیا جائے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اللہ جلشانہ نے قرآن کریم کے نزول کی علت عالَى { هُدًى لِلْمُتَّقِین قرار دی ہے۔یعنی اس کا مقصد متقیوں کے لئے ہدایت ہے اور قرآن