مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 89
مشعل راه جلد پنجم حصه سوم 89 ارشادات حضرت خلیفہ لمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی سے تعلق رکھتا ہے تو میرے نزدیک اسے نظام جماعت کا کوئی احساس نہیں ہے۔اور خاص طور پر عہدیداران کو یہ خاص احتیاط کرنی چاہئے۔زبان کا غلط استعمال ایمان سے محروم کر دیتا ہے۔پھر بعض دفعہ بعض لوگ غصے میں ایسے الفاظ کہہ جاتے ہیں جو ہر مخلص احمدی کو برے لگتے ہیں۔مثلاً لڑائی ہوئی یا گھریلو ناچاقیاں ہوئیں۔بیوی سے تعلقات خراب ہوئے تو کہ دیا کہ جو تم نے کرنا ہے کر لو۔خلیفہ وقت بھی کہے گا تو میں نہیں مانوں گا۔تو ایسے لوگ پھر آہستہ آہستہ جماعت سے بھی پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔لیکن جن کے سامنے یہ باتیں ہوتی ہیں وہ پریشانی کے خط لکھتے ہیں کہ دیکھیں جی اس کو خلیفہ وقت کا بھی احترام نہیں ہے اس کو سزاملنی چاہئے۔ایسے لوگوں کو سزا دینے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔اگر ان کے اندر جماعت سے تعلق کا کوئی ہلکا سا بھی شائبہ ہے تو جب تعزیز ہوگی یا فیصلہ ہوگا تو ان کو احساس ہوگا کہ ہمیں مان لینا چاہئے۔اور اگر نہیں مانیں گے تو کسی حق کے ادا کرنے کے لئے سزا ہوگی اور سزا سے علیحدگی ہو ہی جاتی ہے۔سزا اس لئے نہیں ہوگی کہ اس نے خلیفہ وقت کو کیوں کچھ کہا۔خلیفہ وقت کو کہنے کے لئے تو سزا کی ضرورت ہی نہیں ہے۔اس نے تو خود اعلان کر دیا کہ میں نظام جماعت میں شامل نہیں ہوں، میں بیعت میں شامل نہیں ہوں اس لئے اس کی فکر کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔وہ تو خود علیحدہ ہو رہا ہے۔پھر وہ جانے اور اس کا خدا جانے۔بہت زیادہ محبت سے بھی ٹھوکر لگتی ہے پھر جیسا کہ میں نے کہا کہ بہت زیادہ محبت ہو تو اس وجہ سے ٹھو کر لگتی ہے۔بعض دفعہ اس طرح ہوتا ہے کہ بچے کو سزا ملی ہے تو اس سے محبت کی وجہ سے مغلوب ہو جاتے ہیں۔بچے کی محبت غالب آ جاتی ہے اور نظام جماعت کے خلاف ماں باپ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں ، بہن بھائی ایک دوسرے کی محبت غالب آنے کی وجہ سے نظام کے فیصلوں پر اعتراض کرنے لگ جاتے ہیں۔اس طرح بعض دوسرے رشتے بھی ہیں۔تو بہر حال محبت اور غضب کی وجہ سے یعنی ان دونوں میں شدت کی وجہ سے یہ برائیاں عموماً پیدا ہوتی ہیں۔احمدی ٹھنڈے دل سے فیصلوں کو تسلیم کریں پس ہر احمدی کو یہ بھی ہر وقت ذہن میں رکھنا چاہئے کہ جب بھی ایسے معاملات ہوں اونچ نیچ ہو جاتی