مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 88
مشعل را و جلد پنجم حصہ سوم جب تک تمہارے اپنے عمل نیک نہیں ہوں گے۔88 قضائی فیصلوں کا احترام نہ کرنے کے نقصانات ارشادات حضرت خلیفہ لمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی۔قضاء میں بعض معاملات آتے ہیں اگر فیصلہ مرضی کے مطابق نہ ہو، ایک فریق کے حق میں نہ ہو تو ماننے سے انکار کر دیتے ہیں۔ہوش و حواس میں نہیں رہتے۔صاف جواب ہوتا ہے کہ جو کرنا ہے کر لو۔اور پھر جب تعزیر ہو جاتی ہے، سزامل جاتی ہے تو پھر معاشرے کے دباؤ کی وجہ سے معافی مانگتے ہیں کہ غلطی ہوگئی ، ہمیں معاف کر دیں اور پھر فیصلہ پر بھی عملدرآمد کر دیں گے۔تو یہ تو وہی حساب ہو جاتا ہے ان کا کہ سو پرج جو تیاں بھی کھالیں اور سو پیاز بھی کھالئے۔لیکن بعض ایسے بھی ہیں جن کے کانوں پر جوں نہیں رینگتی ، جھوٹی اناؤں نے انہیں اپنے قبضے میں لیا ہوتا ہے۔اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ اطاعت کرنی ہے۔ویسے اگر اپنے اوپر کوئی بات نہ ہو، اپنا مسئلہ نہ ہو تو دعوے یہ ہوتے ہیں کہ نظام جماعت پر، خلیفہ وقت پر ہماری تو جان بھی قربان ہے۔لیکن اپنے خلاف فیصلہ ہو جائے تو پھر وہ نہیں مانتے۔اور پھر نہ صرف مانتے نہیں بلکہ جماعت کے خلاف اعتراض بھی کرنے شروع ہو جاتے ہیں۔تو ایسے جو لوگ ہیں وہ اس زمرے میں شمار ہوتے ہیں جن کے دل آہستہ آہستہ مستقل ٹیڑھے ہو جاتے ہیں۔جھوٹی اناؤں کی خاطر، چندایکڑ زمین کی خاطر وہ اپنادین بھی گنوا بیٹھتے ہیں۔لیکن ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر ان کے عزیز جومجلس لگاتے ہیں یا ان کو اپنی مجلسوں میں بلاتے ہیں یا بعض دفعہ پاس بٹھا کر کھانا کھلا لیتے ہیں کہ جی مجبوری ہو گئی تھی۔بعض دفعہ یہ بہانے بن رہے ہوتے ہیں کہ فلاں عزیز کی وفات پر وہ آیا تھا اس لئے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا لیا۔تو ایسے لوگ بھی اس مجرم کی طرح بن رہے ہوتے ہیں۔نظام جماعت کی ان کے نزدیک کوئی وقعت نہیں ہوتی۔خلیفہ وقت کے فیصلوں کی ان کے نزدیک کوئی وقعت نہیں ہوتی۔جماعت کی تعزیر جو ایک معاشرتی دباؤ کے لئے دی جاتی ہے، اس کو اہمیت نہ دیتے ہوئے چاہے ایک دفعہ ہی سہی اگر کسی ایسے سزایافتہ شخص کے ساتھ بیٹھتے ہیں جس کی تعزیر ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ زبانِ حال سے یہ پیغام دے رہے ہوتے ہیں کہ سزا تو ہے لیکن کوئی حرج نہیں، ہمارے تمہارے ساتھ اٹھنے بیٹھنے والے تعلقات قائم ہیں۔سوائے بیوی بچوں یا ماں باپ کے۔ان کے تعلقات بھی اس لئے ہوں کہ سزا یافتہ کو سمجھانا ہے۔اور قریبی ہونے کی وجہ سے ان میں درد زیادہ ہوتا ہے اس لئے ایک درد سے سمجھانا ہے۔ان کے لئے دعائیں کرنی ہیں۔اس کے علاوہ اگر کوئی شخص کسی جماعتی تعزیر یافتہ