مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 79 of 251

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 79

مشعل راه جلد پنجم حصه سوم پردہ پوشی مگر کس حد تک؟ 79 ارشادات حضرت خلیفہ امسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی۔۔۔ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو شخص بھی کسی کی بے چینی اور اس کے کرب کو دور کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے کرب اور اس کی بے چینی کو دور کرے گا۔اور جو شخص کسی تنگ دست کے لیے آسانی مہیا کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کے لیے آسانی اور آرام کا سامان بہم پہنچائے گا اور جو شخص دنیا میں کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کی پردہ پوشی کرے گا۔اللہ تعالی اس شخص کی مدد کر تار بہتا ہے جب تک وہ اپنے بھائی کی مدد کے لیے کوشاں رہتا ہے۔( ترمذی کتاب البر والصلۃ باب فی الستر على المسلمين ) پس یہ آسانیاں پیدا کرنا بھی محبت بڑھانے کا ذریعہ ہے۔خاص طور پر ایک دوسرے کی پردہ پوشی کی طرف بہت توجہ دیں۔لیکن یہاں ایک وضاحت بھی کر دوں۔اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ غلاظت کو معاشرے میں پلنے اور بڑھنے دیا جائے اور جو غلط حرکات ہو رہی ہوں ان سے اس طرح پردہ پوشی کی جائے کہ جو معاشرے پر برا اثر ڈال رہی ہو۔اس کی اطلاع عہدیداران کو دینی ضروری ہے۔مجھے بتا ئیں لیکن آپس میں ایک دوسرے سے باتیں کرنا یا کسی کے متعلق باتیں سن کے آگے پھیلانا یہ غلط طریق کار ہے۔اس معاملے میں پردہ پوشی ہونی چاہئے۔لیکن اصلاح کی خاطر بتانا بھی ضروری ہے۔لیکن ہر جگہ بات کرنے سے پر ہیز کرنا چاہئے۔یہ برائیاں اگر کوئی کسی میں دیکھتا ہے تو ایک احمدی کو بے چین ہو جانا چاہئے ، اس کی اصلاح کی کوشش کرنی چاہئے۔بے چینی سے اس کی غلطیوں کو لوگوں پر ظاہر نہیں کرنا۔بے چینی اصلاح کے لئے ہونی چاہئے اور وہیں بات کرنی چاہئے جہاں سے اصلاح کا امکان ہو۔اگر خود اصلاح نہیں کر سکتے تو جس طرح میں نے کہا ہے پھر عہدیداروں کو بتائیں، مجھے بتائیں۔اور پھر یہ عہدیدار رحم اور محبت کے جذبات کے ساتھ اس شخص کی اصلاح کی طرف توجہ کریں۔ایک روایت میں آتا ہے حضرت عامر کہتے ہیں کہ میں نے نعمان بن بشیر کو یہ کہتے سنا کہ رسول اللہ اللہ نے فرمایا تو مومنوں کو ان کے آپس کے رحم محبت و شفقت کرنے میں ایک جسم کی طرح دیکھے گا۔جب جسم کا ایک عضو بیمار ہوتا ہے۔اس کا سارا جسم اس کے لئے بے خوابی اور بخار میں مبتلا رہتا ہے۔( بخاری کتاب الادب۔باب رحمۃ الناس بالبهائم )