مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 137 of 251

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 137

137 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم بھی آپ کو اس نیکی کے بجالانے والا ، اس طرف توجہ دلانے والا ہونا چاہئے جو نیکی آپ نے رمضان میں غریبوں اور مسکینوں کو کھانا کھلا کر ان کے روزے کا سامان کر کے کی تھی۔رمضان میں تو بہت سے دل نرم ہو جاتے ہیں جیسا کہ میں نے کہا غریبوں کا، ضرورت مندوں کا ، روزہ رکھنے والوں کا خیال رکھنے والے بہت سارے لوگ ہوتے ہیں۔جماعت میں تو ایسے نہیں لیکن دوسروں میں ایسے بھی ہیں جو خود چاہے عبادت کریں یا نہ کریں، روزے رکھیں نہ رکھیں، قرآن پڑھیں نہ پڑھیں لیکن عموماً دوسرے مذاہب والوں کو بھی کم از کم اس نیکی کا خیال آ جاتا ہے۔تو عید کے دنوں میں بھی مسکینوں کی خوشیوں میں شامل ہونا چاہئے۔غریبوں کی خوشیوں میں بھی شامل ہونا چاہئے۔اللہ تعالیٰ ایک جگہ فرماتا ہے {وَيُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِيْنًا ويَتِيماً و أَسِيرًا } (الدهر : 9) اور وہ کھانے کو اس کی چاہت کے ہوتے ہوئے بھی مسکینوں اور یتیموں اور اسیروں کو کھلاتے ہیں۔تو اپنی ضروریات کے ہوتے ہوئے بھی اپنے مال میں سے خرچ کر کے مسکینوں یتیموں کا خیال رکھنا نیکی ہے کیونکہ یہ نیکی خدا کی خاطر کی جارہی ہوتی ہے۔پس جس طرح گزشتہ دنوں میں اس نیکی کے کرنے کی توفیق ملی تھی ، اب بھی یہ نیکی جاری رہنی چاہئے۔عید اور باقی خوشیوں میں بھی محتاجوں کو یا درکھیں اور اس عید کی خوشی میں تو اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہئے۔جماعت تو حتی الوسع ضرورت مندوں کو عید کے دن ضروریات مہیا کرتی ہے، ان کا خیال رکھتی ہے۔کچھ نہ کچھ انتظام ہوتا ہے اور اللہ کے فضل سے صاحب حیثیت اس میں رقوم بھی بلکہ بعض اچھی رقوم بھجواتے ہیں۔لیکن انفرادی طور پر بھی ہر ایک کو کوشش کرنی چاہئے کہ اس نیکی کو جاری کرے اور صرف اس عید پر ہی یہ خیال نہ رکھے بلکہ جیسا کہ میں نے پہلے بھی ایک دفعہ کہا تھا کہ ایسا ذریعہ اختیار کرنا چاہئے کہ ضرورت مندوں کی ضرورت پوری ہوتی رہے۔اور جن کو مدد دے کر پاؤں پر کھڑا کیا جاسکتا ہے، ان کو کھڑا کیا جائے۔پھر عید کے علاوہ بھی بعض خوشیاں ہیں، شادیاں ہیں، بیاہ ہیں۔ضرورتمندوں کی شادی کروانا بھی بہت ثواب کا کام ہے۔اس کے لئے جماعت میں ایک فنڈ قائم ہے۔حضرت خلیفہ مسیح الرابع کی جو سکیم ہے مریم شادی فنڈ اس میں بھی رقم دی جاسکتی ہے۔حضرت مسیح موعود نے اس ہمدردی کو اس حد تک لے جانے کی اپنی جماعت کو تلقین کی ہے اور خواہش ظاہر کی ہے۔آپ نے فرمایا کہ تم جو میرے ساتھ تعلق رکھتے ہو۔یاد رکھو کہ تم ہر شخص سے خواہ وہ کسی مذہب کا ہو ہمدردی کر و اور بلا تمیز ہر ایک