مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 106
مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم 106 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ خطبه جمعه فرمودہ 16 ستمبر 2005ء سے اقتباسات شرک کی ظاہری اور مخفی راہیں * کسی سے بھی ضرورت سے زیادہ محبت یا اپنے کسی کام میں بھی ضرورت سے زیادہ غرق ہونا اس حد تک Involve ہو جانا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کی ہوش ہی نہ رہے ، یہ شرک ہے۔کاروباری آدمی ہے یا ملازمت پیشہ ہے۔اگر نمازوں کو بھول کر ہر وقت صرف اپنے کام کی ، پیسہ کمانے کی فکر ہی رہے تو یہ بھی شرک ہے۔نوجوان اگر کمپیوٹر یا دوسری کھیلوں وغیرہ یا مصروفیات میں لگے ہوئے ہیں جس سے وہ اللہ کی عبادت کو بھول رہے ہیں تو یہ بھی شرک ہے۔پھر گھروں میں بعض ظاہری شرک بھی غیر محسوس طریقے سے چل رہے ہوتے ہیں، اس کا احساس نہیں ہوتا۔ایک طرف تو احمدی کہلاتے ہیں گو یہ بہت کم احمدی گھروں میں ہے جبکہ دوسرے لوگوں میں بہت زیادہ ہے لیکن پھر بھی ایک آدھے گھر میں بھی کیوں ہو۔ایسے گھروں میں بعض دفعہ ایسی فلمیں دیکھ رہے ہوتے ہیں جن میں گندا اور غلاظت کے علاوہ دیویوں اور دیوتاؤں کی پوجا کو دکھایا جا رہا ہوتا ہے۔پھر ان مورتیوں کو جو پوجنے والے ہیں یہ لوگ اپنے گھروں میں ان چیزوں کو رکھتے ہیں،شیلفوں میں سجا کر رکھا ہوتا ہے یا بعض خاص جگہ پر رکھا ہوتا ہے۔تو ڈراموں میں دیکھ دیکھ کر ان کے دیکھا دیکھی بعض اپنے گھروں میں بھی ان مورتیوں کو سجا لیتے ہیں۔بازار میں ملنے لگ گئی ہیں کہ سجاوٹ کر رہے ہیں۔اپنے گھروں میں ڈرائنگ رومز وغیرہ میں شیلفوں میں رکھ لیتے ہیں۔تو پھر ان فلموں کو دیکھنے کی وجہ سے آہستہ آہستہ یہ احساس ختم ہو جاتا ہے۔ان مورتیوں کو گھروں میں رکھنے کی وجہ سے، چاہے سجاوٹ کے طور پر ہی ہوں، احساس مر جاتا ہے۔اور اگر کسی گھر میں عبادتوں میں ستی ہے، نمازوں میں سستی ہے تو ایسے گھروں میں پھر بڑی تیزی سے گراوٹ کے سامان پیدا ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔پس ہر احمدی کو نہ صرف ان لغویات سے پر ہیز کرنا ہے بلکہ اپنی عبادتوں کے معیار کو بھی اوپر لے کر جانا ہے۔ہم ہر نماز میں {ایاک