مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 116 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 116

116 ارشادات حضرت خلیفہ المسح الخامس ایدہ اللہ تعالی مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم اللہ تعالیٰ پر توکل کرو۔دعاؤں پر خاص زور دو، اپنی اصلاح کی فکر کرو۔جوانی میں تہجد پڑھنے والے اور جوانی میں دعائیں کرنے والے اور جوانی میں خوابیں دیکھنے والے بڑے نادر وجود ہوتے ہیں۔ابدال درحقیقت وہی ہوتے ہیں جو جوانی میں اپنے اندر تغیر پیدا کر لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایسا تعلق پیدا کر لیتے ہیں کہ بڑھے بڑھے بھی آکر کہتے ہیں کہ حضور ہمارے لیے دعا کیجئے۔تمہارے احمدیوں کے بڑھے تو اقطاب ہونے چاہئیں اور احمدیوں کے جوان ابدال ہونے چاہئیں“۔(مشعل راه جلد اوّل صفحه 733 ) خلافت کا احترام اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی ساری عبادتوں ، اپنی ساری نیکیوں اور اپنے سارے کاموں کو با برکت انجام تک پہنچانا چاہتے ہو تو خلافت سے محبت اور اس کا ادب اور اس کا احترام اپنے ایمان کا جزو بنالو۔اور یہ امر خوب یاد رکھو اور اپنی نسلوں کو ان کے خون کی رگوں میں یہ بات شامل کر دو کہ تمہاری تمام تر ترقیات اب صرف اور صرف خلافت کے ساتھ وابستہ ہیں ، اس کے پیچھے پیچھے چلو، اس کے اشاروں کو حکم سمجھ کر چلو، تو تم دیکھو گے کہ فتوحات اور ترقیات کی منزلیں تمہارے قدم چومیں گی۔ان شاء اللہ حضرت مصلح موعود کے اس ارشاد کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھیں۔جس میں آپ نے فرمایا کہ: خلافت کے تو معنی ہی یہ ہیں کہ جس وقت خلیفہ وقت کے منہ سے کوئی لفظ نکلے اس وقت سب سکیموں سب تجویزوں اور سب تدبیروں کو پھینک کر رکھ دیا جائے اور سمجھ لیا جائے کہ اب وہی سکیم وہی تجویز اور وہی تدبیر مفید ہے جس کا خلیفہ وقت کے طرف سے حکم ملا ہے جب تک یہ روح جماعت کے اندر پیدا نہ ہو اس وقت تک سب خطبات رائیگاں ، تمام سکیمیں باطل اور تمام تدبیریں ناکام رہیں گی“۔(الفضل 31 جنوری 1936ء) حضرت خلیفۃالمسیح الثالث" نے بھی اس امر کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا تھا اور یہی دستو راور اصول ہے۔آپ فرماتے ہیں: غرض ہر اچھا نظر آنے والا عمل۔عمل صالح نہیں ہوتا۔بلکہ عمل صالح وہ اچھا عمل ہے جو ایمان کے مطابق ہو۔جہاں تک خدام الاحمدیہ کے کاموں کا تعلق ہے خدام الاحمدیہ کے وہی کام (دینی)