مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 101 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 101

مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم 101 ارشادات حضرت خلیفہ امسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی خطبه جمعه فرمودہ 17 ستمبر 2004ء سے اقتباس * وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوْا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا فَإِن بَغَتْ إِحْدَ هُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ فَإِنْ فَاءَتْ فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَأَقْسِطُوْا إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ إِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ وَاتَّقُوْا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ (سورة الحجرات آيات 10-11) مومن کے لیے یہ حکم ہے کہ اول تو تم ان جھگڑوں سے بچو، اور اگر کبھی ایسی صورت پیدا ہو جائے کہ یہ لڑائی جھگڑے آپس میں ہونے لگیں تو دوسرے مومن مل بیٹھیں اور ان کی آپس میں صلح کروائیں۔دونوں کو قائل کریں کہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر یوں لڑنا اچھا نہیں ہے۔کیوں اللہ تعالیٰ کے نافرمان بنتے ہو۔آپس میں ایک دوسرے کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ہے، ایک دوسرے سے بدلے لینے کا کسی کو اختیار نہیں ہے۔اگر سمجھانے سے وہ باز آجائیں اور صلح اور صفائی سے کسی فیصلے پر پہنچ جائیں تو ٹھیک ہے ورنہ پھر جو فیصلہ نہیں مانتا اس کو پھر فرمایا کہ سزا دو۔اس کو معاشرے میں کوئی مقام نہ دو، اس کے ہمدرد نہ بنو۔سزا یافتہ شخص کی ناجائز حمایت نہ کریں اب بعض جھگڑوں کے فیصلے کے لیے لوگ جماعتی طور پر بھی قضاء میں آتے ہیں یا ثالثی کرواتے ہیں۔اور جب ایک فیصلہ ہو جاتا ہے تو بعض ان میں سے فیصلہ ماننے سے انکار کرنے لگ جاتے ہیں۔اور اس وجہ سے جب ان کو کوئی تعزیر ہوتی ہے، کوئی سزا ملتی ہے، کیونکہ جماعتی معاشرے کے اندر تو نظام جماعت کا فیصلہ نہ ماننے پر اظہار نا پسندیدگی ہو سکتا ہے۔کوئی پولیس فورس تو جماعت کے پاس ہے نہیں۔تو جب یہ سزا ملتی ہے تو فیصلہ نہ ماننے والوں کے عزیز یا دوست بجائے اس کے کہ ان پر دباؤ ڈالیں کہ