مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 88
88 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس اید اللہ تعالی مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم پھر دوسرا فریق جس پہ اعتراض ہورہا ہوتا ہے وہ پھر بعض دفعہ مایوسی میں چڑ بھی جاتا ہے اور پھر تعلقات پر بھی اثر پڑتا ہے۔تو بلاضرورت کی جو باتیں ہیں وہ بھی لغویات میں شمار ہوتی ہیں۔بعض دفعہ دو آدمی باتیں کر رہے ہیں تیسرا بلا وجہ ان میں دخل اندازی شروع کر دے، یہ بھی غلط چیز ہے لغویات میں اس کا شمار ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ”رہائی یافتہ مومن وہ لوگ ہیں جو لغو کاموں اور لغو باتوں اور لغوحرکتوں اور لغو مجلسوں اور لغو صحبتوں سے اور لغو تعلقات سے اور لغو جوشوں سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں۔( تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد سوم سورۃ انحل تاسورۃ یونس صفحه 359 ) تو یہ تمام لغویات جن کی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نشان دہی فرمائی ہے یہ کیا ہیں؟ جیسا کہ ایک حدیث میں آیا کسی پر الزام تراشی کرنا ، بغیر ثبوت کے کسی کو بلا وجہ بدنام کرنا، اس کے افسران تک اس کی غلط رپورٹ کرنا، عدالتوں میں بلاوجہ اپنی ذاتی انا کی وجہ سے کسی کو کھینچنا ، گھر میلو جھگڑوں میں میاں بیوی کے ایک دوسرے پر گندے اور غلیظ الزامات لگا نا پھر سینما وغیرہ میں گندی فلمیں گھروں میں بھی بعض لوگ لے آتے ہیں ) دیکھنا، تو یہ تمام لغویات ہیں۔انٹرنیٹ کے غلط استعمال سے بچیں پھر انٹرنیٹ کا غلط استعمال ہے یہ بھی ایک لحاظ سے آجکل کی بہت بڑی لغو چیز ہے۔اس نے بھی کئی گھروں کو اجاڑ دیا ہے۔ایک تو یہ رابطے کا بڑا سستا ذریعہ ہے پھر اس کے ذریعہ سے بعض لوگ پھرتے پھراتے رہتے ہیں اور پتہ نہیں کہاں تک پہنچ جاتے ہیں۔شروع میں شغل کے طور پر سب کام ہو رہا ہوتا ہے پھر بعد میں یہی شغل عادت بن جاتا ہے اور گلے کا ہار بن جاتا ہے چھوڑ نا مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ یہ بھی ایک قسم کا نشہ ہے اور نشہ بھی لغویات میں ہے۔کیونکہ جو اس پر بیٹھتے ہیں بعض دفعہ جب عادت پڑ جاتی ہے تو فضولیات کی تلاش میں گھنٹوں بلاوجہ، بے مقصد وقت ضائع کر رہے ہوتے ہیں۔تو یہ سب لغو چیزیں ہیں۔مخالف ویب سائٹس پر کئے جانیوالے اعتراضات کے جواب خود نہ دیں آجکل بعض ویب سائٹس ہیں جہاں جماعت کے خلاف یا جماعت کے کسی فرد کے خلاف گندے غلیظ پرا پیگنڈے یا الزام لگانے کا سلسلہ شروع ہوا ہوا ہے۔تو لگانے والے تو خیر اپنی دانست میں یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں، اپنی عقل کے مطابق کہ یہ مغلظات بک کے وہ جماعت کو کوئی نقصان پہنچا رہے ہیں