مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 89
مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم 89 ارشادات حضرت خلیفہ المسح الخامس ایدہ اللہ تعالی حالانکہ اُن کی اِن لغویات پر کسی کی بھی کوئی نظر نہیں ہوتی۔جماعت کا شاید اعشاریہ ایک فیصد بھی طبقہ اس کو نہ دیکھتا ہو، اس کو شاید پتہ بھی نہ ہو۔تو بہر حال یہ تمام لغویات ہیں اس لیے وہ جو ان گندے غلیظ الزاموں کے جواب دینے کی کوشش کرتے ہیں ، بعض نوجوانوں میں یہ جوش پیدا ہو جاتا ہے تو اس جوش کی وجہ سے وہ جواب دینے کی کوشش کرتے ہیں ان کو بھی اس سے بچنا چاہیے۔جماعت کی اپنی ایک ویب سائٹ ہے اگر کوئی اعتراض کسی کی نظر میں قابل جواب ہو کسی کی نظر سے گزرے تو وہ اعتراض انہیں بھیج دینا چاہیے۔انٹرنیٹ پر بیٹھے ہوتے ہیں پتہ ہے اس کا پتہ کیا ہے۔اور اگر کسی کے ذہن میں اس اعتراض کا کا کوئی جواب آیا ہو تو وہ جواب بھی بے شک بھیج دیں۔لیکن وہاں پر خود کسی کے اعتراض کا جواب نہیں دینا۔ہوسکتا ہے آپ کو جواب دینا صحیح نہ آتا ہو کیونکہ جہاں آپ بھیجیں گے خود ہی چیک کر لیں گے۔پہلی بات تو یہ ہے کہ اس اعتراض کا جواب دینا بھی ہے کہ نہیں یا اس معاملے میں پڑ نا صرف لغویات یا صرف وقت کا ضیاع ہی ہے۔کیونکہ اعتراض کرنے والے کی اصلاح تو ہونی نہیں ہوتی کیونکہ اگر ان کا یہ مقصد ہو، یہ نیت ہو کہ انہوں نے اپنی اصلاح کرنی ہے یا کوئی فائدہ اٹھانا ہے تو پھر اتنی غلیظ اور گندی زبان استعمال نہیں ہوتی ، شریفانہ زبان استعمال کی جاتی ہے۔اور بعض اعتراضوں کے جواب کا تو دوسروں کو فائدہ بھی نہیں ہوتا۔پھر جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ اگر کسی کے پاس جواب ہو تو اس جماعتی نظام کے تحت جواب بھیج دیں خود ہی نظام اس کو دیکھ لے گا کہ آیا جو جواب آپ نے بھیجا ہے درست ہے یا اس سے بہتر جواب دیا جا سکتا ہے۔تو بہر حال مقصد یہ ہے کہ جماعت کے کسی بھی فرد کا وقت بلا مقصد ضائع نہیں ہونا چاہیے اس لیے جس حد تک ان لغویات سے بچا جا سکتا ہے، بچنا چاہیے اور جو اس ایجاد کا بہتر مقصد ہے اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔علم میں اضافے کے لیے انٹرنیٹ کی ایجاد کو استعمال کریں۔یہ نہیں ہے کہ یا اعتراض والی ویب سائٹس تلاش کرتے رہیں یا انٹرنیٹ پر بیٹھ کے مستقل باتیں کرتے رہیں۔چیٹنگ(Chatting) سے پر ہیز کریں آجکل چیٹنگ (Chatting) جسے کہتے ہیں۔بعض دفعہ یہ چیٹنگ مجلسوں کی شکل اختیار کر جاتی ہے اس میں بھی پھر لوگوں پہ الزام تراشیاں بھی ہو رہی ہوتی ہیں ، لوگوں کا مذاق بھی اڑایا جارہا ہوتا ہے تو یہ بھی ایک وسیع پیمانے پر مجلس کی ایک شکل بن چکی ہے اس لیے اس سے بھی بچنا چاہیے۔