مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 56 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 56

مشعل راہ جلد پنجم حصہ دوم 56 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس اید و اللہ تعالی خاطر ہوتی ہیں۔لیکن ایک مومن کے لیے دنیا وی مجالس بھی اگر وہ اللہ تعالیٰ کے خوف ، خشیت اور تقویٰ پر قائم رہتے ہوئے لگائی جائیں تو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والی بن جاتی ہیں۔قرآن کریم میں مجلسیں لگانے والوں کے لیے مختلف انداز میں نصیحت کی گئی ہے۔کہیں فرمایا کہ تمہاری مجلسیں دینی غرض کے لیے ہوں یا دنیاوی غرض کے لیے ہوں، دنیاوی منفعت کے لیے ہوں ، جو بھی مجالس ہوں ، ہمیشہ یادرکھو ایک دوسرے کے جذبات کا خیال رکھو۔اگر تم میرے بندے ہو تو تمہارے منہ سے صرف اچھی بات ہی نکلنی چاہیے۔ہمیشہ يَقُولُوا الَّتِي هِيَ أَحْسَن کا ہی حکم ہے۔کیونکہ اگر یہ نہیں کرو گے تو تمہارے معاشرے میں، تمہاری مجالس میں ہمیشہ شیطان فساد پیدا کرتا رہے گا۔اور یا درکھو کہ شیطان کی فطرت میں ہے کہ اس نے تمہاری دشمنی کرنی ہی کرنی ہے۔اس لیے تمہیں چاہیے کہ اپنے گھر میں، اپنی بیوی بچوں کے ساتھ مجلس لگا کر بیٹھے ہو یا اپنے خاندان کے کسی فنکشن (Function) میں اکٹھے ہو یا کاروباری مجلس میں ہو یا دینی مجلس میں ہو۔ذیلی تنظیموں کے اجلاسوں میں ہو یا اجتماعات میں ہو، جہاں بھی تم ہو کوئی ایسی بات کرو گے جو دل کو جلانے والی ہو ، کسی بھی قسم کی طنزیہ بات ہو یا تم اس مجلس کے آداب اور اصولوں کی پابندی نہیں کر رہے تو ضرور وہاں فساد پیدا ہو گا۔اور شیطان یہی چاہتا ہے۔اس لیے اگر تم صحیح مومن ہو تو اپنی زبان سے اور اپنے عمل سے اس فساد سے بچنے کی کوشش کرتے رہو۔مشورے مرکز کی اطاعت میں ہوں شیطان کیونکہ مومنوں پر مختلف طریقوں سے حملہ کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔اس لیے جو آیت میں نے تلاوت کی ہے اس میں فرمایا کہ اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو جب تم باہم خفیہ مشورے کرو تو گناہ ،سرکشی اور رسول کی نافرمانی پرمبنی مشورے نہ کیا کرو، ہاں نیکی اور تقویٰ کے بارے میں مشورے کیا کرو اور اللہ سے ڈرو جس کے حضور تم اکٹھے کئے جاؤ گے۔دیکھیں اس میں مخاطب مومنوں کو کیا گیا ہے کہ انسان اپنے مسائل کے حل کے لیے ایک دوسرے سے مشورے لیتا ہے اس میں کوئی حرج نہیں۔پھر اپنی رائے میں مضبوطی پیدا کرنے کے لیے اور لوگوں کو بھی اپنے ساتھ ملا لیتے ہیں تو فرمایا کہ اس صورت میں یہ ہمیشہ یاد رکھو کہ تمہارے مشورے چاہے تمہارے حقوق کی حفاظت کے لیے ہوں یا تمہارے خیال میں نظام میں درستی کے لیے، ان میں کبھی گناہ ، سرکشی اور رسول کی نافرمانی کرنے والے مشورے نہ ہوں ،