مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 55 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 55

مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم 55 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس اید و اللہ تعالی ان کے ساتھ ایک کتا تھا، انہوں نے پیچھے دوڑ لگائی تو کہتے ہیں کہ جب وہ کتا جو ان سے آگے آگے دوڑ رہا تھا ان بندروں کے قریب پہنچ گیا تو ان میں سے ایک صحتمند اور پہلوان قسم کا بندر تھا جو اس گروہ کے پیچھے چل رہا تھا جو شاید ان کی حفاظت کے لیے لگایا گیا ہو تو اس نے جب دیکھا کہ اتنے قریب کتا پہنچ گیا ہے تو وہ آرام سے بیٹھ گیا جس طرح ایک پہلوان بیٹھتا ہے، ٹانگوں پہ ہاتھ رکھ کے اور باقی گروہ دوڑتا چلا گیا۔تو جب کتا اس کے قریب آیا تو اس نے اس زور کا اور جچا تلا انسان کی طرح اس کے تھپڑ مارا ہے کہ وہ کتا چیختا ہوا کئی لڑھکنیاں کھاتا چلا گیا۔پھر اس نے انتظار کیا کہ کوئی اور بھی آئے جب اس نے دیکھ لیا کہ میرے لوگ محفوظ ہو گئے ہیں تو پھر وہ بھی اس گروہ میں شامل ہو گیا۔تو یہ حفاظت کا یا اپنی خود حفاظتی کا جو نظام ہے اللہ تعالیٰ نے ہر جانور میں رکھا ہوا ہے ، اپنے اپنے لحاظ سے جو ہر ایک کی سمجھ بوجھ ہے کچھ ایسے جانور بھی ہیں جو سکھائے بھی جاتے ہیں لیکن بہر حال ان کا ایک محدود دائرہ ہے۔اور اسی کے اندر وہ رہ سکتے ہیں اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے ان کی فطرت میں رکھا ہے اس حد تک ہی وہ کام کر سکتے ہیں ان میں کوئی آداب یا تمیز یا اس قسم کی دوسری یعنی اخلاق وغیرہ نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔انہوں نے تو وہی کچھ کرنا ہے جیسا کہ میں نے کہا جو ان کی فطرت میں ہے۔لیکن انسان کو اللہ تعالیٰ نے اشرف المخلوقات بنایا ہے۔کہ معاشرے میں رہو، اکٹھے ہو کے رہو مختلف قوموں اور خاندانوں میں تقسیم بھی کیا ہے لیکن ساتھ ہی فرما دیا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت بھی کرو اور اس کی مخلوق کے حقوق بھی ادا کر و۔اخلاق کے اعلیٰ معیار بھی قائم کرو اور ان میں ترقی کرتے چلے جاؤ۔کیونکہ ایک وسیع میدان ہے جو کھلا ہے۔اسی طرح روحانیت میں بھی ترقی کرو اپنے دماغوں کو بھی استعمال کرو اور پھر اس کے ذریعے سے ان کو محنت کے ذریعے مزید چمکاتے چلے جاؤ۔تو بہر حال اس معاشرے میں رہنے کے لیے اپنے ساتھی انسانوں کے حقوق ادا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تم نے جن اخلاق کا مظاہرہ کرنا ہے ان میں سے ایک خلق مجالس کے حقوق بھی ہیں۔مجالس کے آداب ایک احمدی کو روحانیت سے بھی حصہ ملا ہے اسے اس خلق کی ادائیگی کی طرف خاص طور پر بہت توجہ دینی چاہیے۔پھر مجالس کی بھی کئی قسمیں ہیں کچھ مجلسیں دنیا داری کے لیے لگتی ہیں اور کچھ مجلسیں دین کی