مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 41 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 41

مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم 41 ارشادات حضرت خلیفہ امسح الخامس ایدہ اللہ تعالی الصلوۃ والسلام کے ماننے والوں کے ساتھ تو اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ علم و معرفت میں کمال حاصل کریں گے تو اس کمال کے لیے کوشش بھی کرنی ہوگی۔پھر انشاء اللہ تعالیٰ ، اللہ تعالیٰ کے فضل بھی ہوں گے۔بہر حال بچوں کی رہنمائی ضروری ہے چند ایک ایسے ہوتے ہیں جو اپنے شوق کی وجہ سے اپنے راستے کا تعین کر لیتے ہیں، عموماً ایک بہت بڑی اکثریت کو گائیڈ کرنا ہوگا اور جیسا کہ میں نے کہا گہرائی میں جا کر سارا جائزہ لینا ہوگا۔۔۔واقفین نو کے والدین بھی علوم سیکھیں تو ہم نے واقفین نو بچوں کو پڑھا کے نئے نئے علوم سکھا کے پھر دنیا کے منہ دلائل سے بند کرنے ہیں۔اور اس تعلیم کو سامنے رکھتے ہوئے جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں اصل قرآن کا علم اور معرفت دی ہے، اللہ کرے کہ واقفین نو کی یہ جدید فوج اور علوم جدیدہ سے لیس فوج جلد تیار ہو جائے۔پھر واقفین نو بچوں کی تربیت کے لیے خصوصاً اور تمام احمدی بچوں کی تربیت کے لیے بھی عموماً ہماری خواتین کو بھی اپنے علم میں اضافے کی ساتھ ساتھ اپنے بچوں کو بھی وقت دینے کی طرف توجہ دینی چاہیے۔اور اس کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔اجلاسوں میں اجتماعوں میں، جلسوں میں آ کر جو سیکھا جاتا ہے وہیں چھوڑ کر چلے نہ جایا کریں، یہ تو بالکل جہالت کی بات ہوگی کہ جو کچھ سیکھا ہے وہ وہیں چھوڑ دیا جائے۔تو عورتیں اس طرف بہت توجہ دیں اور اپنے بچوں کی طرف بھی خاص طور پر توجہ دیں۔کیونکہ میں نے دیکھا ہے کہ جن واقفین نو یا عمومی طور پر بچوں کی مائیں بچوں کی طرف توجہ دیتی ہیں اور خود بھی کچھ دینی علم رکھتی ہیں ان کے بچوں کے جواب اور وقف نو کے بارے میں دلچسپی بھی بالکل مختلف انداز میں ہوتے ہیں اس لیے مائیں اپنے علم کو بھی بڑھائیں اور پھر اس علم سے اپنے بچوں کو بھی فائدہ پہنچائیں۔لیکن اس سے یہ مطلب نہیں ہے کہ باپوں کی ذمہ داریاں ختم ہو گئی ہیں یا اب باپ اس سے بالکل فارغ ہو گئے ہیں یہ خاوندوں کی اور مردوں کی ذمہ داری بھی ہے کہ ایک تو وہ اپنے عملی نمونے سے تقوی اور علم کا ماحول پیدا کریں پھر عورتوں اور بچوں کی دینی تعلیم کی طرف خود بھی توجہ دیں۔کیونکہ اگر مردوں کا اپنا ماحول نہیں ہے ، گھروں میں وہ پاکیزہ ماحول نہیں ہے، تقویٰ پر چلنے کا ماحول نہیں۔تو اس کا اثر بہر حال عورتوں پر بھی ہوگا اور بچوں پر بھی ہو گا۔اگر مرد چاہیں تو پھر عورتوں میں چاہے وہ بڑی عمر کی