مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 40
مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم 40 ارشادات حضرت خلیفہ المسح الخامس اید و اللہ تعالی میں جب تیار ہو رہی ہوں گی تو ہمیں پتہ لگ جائے گا کہ کتنے ایسے ہیں جو بڑے ہو کر جھڑ رہے ہیں اور کتنے ایسے ہیں اور کس ملک میں ایسے ہیں جہاں سے ہمیں (مربی) ملیں گے اور کتنے ایسے ہیں جن میں سے ہمیں ڈاکٹر ملیں گے، کتنے انجینئر ملیں گے یا ٹیچر ملیں گے وغیرہ پھر جو ڈاکٹر بنتے ہیں ان کی ڈاکٹری کے شعبے میں بھی دلچسپیاں ہر ایک کی الگ ہوتی ہیں تو اس دلچسپی کے مطابق بھی ان کی رہنمائی کی جاسکتی ہے۔اس کے لیے بھی ملکوں کو مرکز سے پوچھنا ہوگا تا کہ ضرورت کے مطابق ان کو بتایا جائے۔بعض دفعہ ہوتا ہے کہ کسی نے ڈاکٹر بننا ہے۔صرف ایک شعبے میں دلچسپی نہیں ہوتی ، دو تین میں ہوتی ہے تو ضرورت کے مطابق رہنمائی کی جا سکتی ہے کہ فلاں شعبے میں جانا ہے تو اب تو اس عمر کو دوسری تیسری کھیپ پہنچ چکی ہے شاید چوتھی بھی پہنچ رہی ہو جہاں مستقبل کے بارے میں سوچا جا سکتا ہے۔تو اس لیے ہر سال با قاعدہ اس کے مطابق نئے سرے سے فہرستیں بنتی رہنی چاہئیں، نئے جو شامل ہونے والے ہیں ان کو شامل کیا جانا چاہیے، جو جھڑنے والے ہیں ان کو علیحدہ کیا جانا چاہیے۔اس لحاظ سے اب شعبہ وقف نو کو کام کرنا ہوگا۔پھر جو پڑھ رہے ہیں ان کے بارے میں بھی علم ہونا چاہیے کہ ان میں درمیانے درجے کے کتنے ہیں اور یہ کیا کیا پیشے اختیار کر سکتے ہیں، ان کو کیا کام دیئے جا سکتے ہیں اور جیسا کہ میں نے کہا اس کام کو اب بڑے وسیع پیمانے پر دنیا میں ہر جگہ کرنے کی ضرورت ہے۔اور واقفین نو کے شعبے کو میں کہوں گا کہ یہ فہرستیں کم از کم ایسے بچے جو پندرہ سال سے اوپر کے ہیں ان کی تیار کر لیں اور تین چار مہینے میں اس طرز پر فہرست تیار ہونی چاہیے۔کیونکہ میرے خیال میں میں نے جو جائزہ لیا ہے جو رپورٹ کے اصل حقائق ہیں ، زمینی حقائق جسے کہتے ہیں وہ ذرا مختلف ہیں اس لیے ہمیں حقیقت پسندی کی طرف آنا ہوگا۔ہر ملک میں رہنمائی کے شعبہ کو فعال کریں کچھ شعبہ جات تو میں نے گنوا دیئے ہیں تو یہ ہی نہ سمجھیں کہ ان کے علاوہ کوئی شعبہ اختیار نہیں کیا جاسکتا یا ہمیں ضرورت نہیں ہے۔بعض ایسے بچے ہوتے ہیں جو بڑے ٹیلینڈ (Talented) ہوتے ہیں، غیر معمولی ذہین ہوتے ہیں ریسرچ کے میدان میں نکلتے ہیں جس میں سائنس کے مضامین بھی آتے ہیں، تاریخ کے مضامین بھی ہیں یا اور مختلف ہیں تو ایسے بچوں کو بھی ہمیں گائیڈ کرنا ہوگا وہی بات ہے جو میں نے کہی کہ ہر ملک میں کونسلنگ یا رہنمائی وغیرہ کے شعبہ کو فعال کرنا ہوگا۔اور جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ