مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 39
مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم 39 ارشادات حضرت خلیفہ المسح الخامس ایدہ اللہ تعالی طرف توجہ کریں جیسا کہ میں نے کہا اور جو ملکی شعبہ واقفین نو کا ہے وہ بھی ایسے بچوں کی لسٹیں بنائیں اور پھر ہر سال یہ فہرستیں تازہ ہوتی رہیں کیونکہ ہر سال اس میں نئے بچے شامل ہوتے چلے جائیں گے۔ایک عمر کو پہنچنے والے ہوں گے۔واقفین نو مختلف شعبوں میں آئیں اور صرف اسی شعبے میں نہیں بلکہ ہر شعبے میں عموماً جو ہمیں موٹے موٹے شعبے جن میں ہمیں فوراً واقفین زندگی کی ضرورت ہے وہ ہیں (مربیان ) ، پھر ڈاکٹر ہیں ، پھر ٹیچر ہیں ، پھر اب کمپیوٹر سائنس کے ماہرین کی بھی ضرورت پڑ رہی ہے۔پھر وکیل ہیں، پھر انجینئر ہیں ، زبانوں کے ماہرین کا میں نے پہلے کہہ دیا ہے پھر ان کے آگے مختلف شعبہ جات بن جاتے ہیں، پھر اس کے علاوہ کچھ اور شعبے ہیں۔تو جو تو ( مربی ) بن رہے ہیں ان کا تو پتہ چل جاتا ہے کہ جامعہ میں جانا ہے اور جامعہ میں جانا چاہتے ہیں اس لیے فکر نہیں ہوتی پتہ لگ جائے گالیکن جو دوسرے شعبوں میں یا پیشوں میں جار ہے ہوں ان میں سے اکثر کا پتہ ہی نہیں لگتا۔اب دوروں کے دوران مختلف جگہوں پر میں نے پوچھا ہے تو ابھی تک یا تو بچوں نے ذہن ہی نہیں بنایا ہوا 16-17 سال کی عمر کو پہنچ کے بھی ، یا پھر کسی ایسے شعبے کا نام لیتے ہیں جس کی فوری طور پر جماعت کو شاید ضرورت بھی نہیں ہے۔مثلاً کوئی کہتا ہے کہ میں نے پائلٹ بننا ہے۔پھر بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں تو کھیلوں سے دلچسپی ہے، کرکٹر بنا ہے یا فٹ بال کا پلیئر (Player) بننا ہے۔یہ تو پیشے واقفین نو کے لیے نہیں ہیں۔صرف اس لیے کہ بچوں کی صحیح طرح کونسلنگ (Councling) ہی نہیں ہو رہی ان کی رہنمائی نہیں ہو رہی ، اور اس وجہ سے ان کو کچھ سمجھ ہی نہیں آ رہی کہ ان کا مستقبل کیا ہے۔تو ماں باپ بھی صرف وقف کر کے بیٹھ نہ جائیں بلکہ بچوں کو مستقل سمجھاتے رہیں۔میں یہی مختلف جگہوں پر ماں باپ کو کہتا رہا ہوں کہ اپنے بچوں کو سمجھاتے رہیں کہ تم وقف نو ہو، ہم نے تم کو وقف کیا ہے تم نے جماعت کی خدمت کرنی ہے اور جماعت کا ایک مفید حصہ بننا ہے اس لیے کوئی ایسا پیشہ اختیار کرو جس سے تم جماعت کا مفید وجود بن سکو۔پھر ایسے بچے بھی ملے ہیں کہ بڑی عمر کے ہونے کے باوجود ان کو یہ نہیں پتہ کہ وہ واقف نو ہیں اور وقف نو ہوتی کیا چیز ہے۔ماں باپ کہتے ہیں کہ وقف نو میں ہیں۔پھر بعض یہ کہتے ہیں کہ ماں باپ نے وقف کیا ہے لیکن ہم کچھ اور کرنا چاہتے ہیں تو جب ایسی فہرستیں تیار ہوں گی سامنے آ رہی ہوں گی ، ہر ملک