مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 22 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 22

مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم 22 ارشادات حضرت خلیفة المسح الخامس ایدہ اللہ تعالی خطبہ جمعہ فرمودہ 28 مئی 2004ء سے اقتباسات قرض لے کر قربانی کرنے والے۔اللہ تعال کے فضل سے جماعت میں ہزاروں کی تعداد میں ایسے ہیں جو خرچ کرنے والے سخی کے نقش قدم پر چلنے والے ہیں اور کوشش یہ ہوتی ہے کہ اپنے اخراجات کم کریں اور اپنے معیار قربانی کو بڑھا ئیں اور عموماً کم آمدنی والے لوگ قربانی کے یہ معیار حاصل کرنے کی زیادہ کوشش کرتے ہیں۔میں جانتا ہوں کہ بعض لوگ اندازے سے بجٹ لکھوا دیتے ہیں خاص طور پر ہماری جماعت میں زمیندار طبقہ ہے ان کو صحیح طرح پتہ نہیں ہوتا اور خاص طور پر پاکستان میں زمینداری کا انحصار نہری علاقوں میں جہاں جاگیرداروں اور وڈیروں نے پانی پر مکمل طور پر قبضہ کیا ہوتا ہے اور اپنی زمینیں سیراب کر رہے ہوتے ہیں پانی کو آگے نہیں جانے دیتے اور چھوٹے زمیندار بیچارے پانی نہ ملنے کی وجہ سے نقصان اٹھارہے ہوتے ہیں۔( آپ میں سے اکثر یہاں زمینداروں میں سے بھی آئے ہوئے ہیں خوب اندازہ ہو گا۔تو نتیجہ ان کی فصلیں بھی اچھی نہیں ہوتیں لیکن ایسے مخلصین بھی ہیں کیونکہ بجٹ لکھوا دیا ہوتا ہے اس لیے قرض لے کر بھی اس کی ادائیگی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اور جب ان کو کہا جائے کہ رعایت شرح لے لو کیونکہ اگر آمد نہیں ہوتی تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے تو کہتے ہیں کہ اگر قرض لے کر ہم اپنی ذات پر خرچ کر سکتے ہیں تو قرض لے کر اللہ تعالیٰ سے کئے ہوئے وعدے کو پورا کیوں نہیں کر سکتے۔اور ان کا یہی نقطہ نظر ہوتا ہے کہ شاید اس وجہ سے اللہ تعالیٰ ہماری آئندہ فصلوں میں برکت ڈال دے۔لیکن بعض لوگ اس بات کو نہیں سمجھتے۔بہر حال یہ تو ہر ایک کا اللہ تعالیٰ سے معاملہ ہے، تو کل کا معاملہ ہے، ہر ایک کا اپنا اپنا معیار ہوتا ہے اس لیے میں یہ تو نہیں کہتا کہ قرض لے کر اپنے چندے ادا کرو۔طاقت سے بڑھ کر بھی اپنے اوپر تکلیف وارد دنہیں کرنی چاہیے ، اپنے آپ کو تکلیف میں نہیں ڈالنا چاہیے۔لیکن جہاں تک اخراجات میں