مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 17 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 17

مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم 17 ارشادات حضرت خلیفہ المسح الخامس ایدہ اللہ تعالی سال بعد ہی خلافت رابعہ میں 1984ء میں، پھر ایک اور خوفناک سکیم بنائی کہ خلیفہ امسیح کو بالکل عضو معطل کی طرح کر کے رکھ دو۔وہ کوئی کام نہ کر سکے۔اور جب وہ کوئی کام نہیں کر سکے گا تو جماعت میں بے چینی پیدا ہوگی اور جب جماعت میں بے چینی پیدا ہوگی تو ظاہر ہے وہ ٹکڑے ٹکڑے ہوتی چلی جائے گی، اس کا شیرازہ بکھرتا چلا جائے گا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی تدبیر پر اپنی تدبیر کو کیسے حاوی کیا۔ان کی ہر تد بیر کو کس طرح الٹا کے مارا کہ حضرت خلیفہ مسیح الرابع کے وہاں سے نکلنے کے ایسے سامان پیدا فرمائے کہ کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ چھپ کے نکلے۔کھلے طور پر نکلے اور سب کے سامنے نکلے اور کراچی سے دن کے وقت یا صبح شروع وقت کی ہی وہ فلائیٹ تھی۔بہر حال وہاں کوشش بھی کی گئی کہ روکا جائے لیکن وہاں بھی اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی اور وہ نہیں پہچان سکے۔جماعت میں اس سے بڑی سچائی کی اور کیا دلیل ہو سکتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ سے ہجرت کی ہے تو جو اس وقت سلوک ہوا تھا اس سلوک کی کچھ جھلکیاں ہم نے اس ہجرت کے وقت بھی دیکھیں اور جس سے ہمارے ایمانوں کو مزید تقویت پہنچی ہمارے ایمان مزید مضبوط ہوئے۔پھر یہاں پہنچ کر بیرونی ممالک میں جماعتوں کو مشنوں کو منظم کرنے کا کام بہت وسعت اختیار کر گیا۔اور اسی طرح دعوت الی اللہ کا کام بھی بہت وسیع ہو گیا۔اور پھر لاکھوں اور کروڑوں کی تعداد میں جماعت میں داخل ہونا شروع ہوگئے، پھر ایم ٹی اے کا اجراء ہوا، ایک ملک میں تو پلان تھا کہ یہاں خلیفہ مسیح کی آواز کو روک دیا جائے لیکن ایم نیاے نے تمام دنیا میں وہ آواز پہنچادی اور دشن کی تد بیر یں پھر نا کام ہوکر ان پر لوٹ گئیں۔پہلے تو ( بیت ) اقصیٰ ربوہ میں خلیفہ مسیح کا خطبہ سنتے تھے اب ہر شہر میں، ہر گاؤں میں، ہر گھر میں یہ آواز پہنچ رہی ہے۔پھر افریقہ میں خدمت انسانیت کے کام کو اس دور میں بڑی وسعت دی گئی۔غرض کہ ایک انتہائی ترقی کا دور تھا اور ہر روز جو دن چڑھ رہا تھا وہ ایک نئی ترقی لے کر آ رہا تھا۔دشمن خیال کرتا ہے یا انسان اپنی سوچ سے بعض اوقات سوچتا ہے کہ یہاں انتہاء ہوگئی اور اب اس سے زیادہ ترقی کیا ہو گی۔لیکن اللہ تعالیٰ ایسے نظارے دکھاتا ہے کہ انسان کی سوچ بھی وہاں تک نہیں پہنچ سکتی۔خلافت خامسہ کے آغاز پر غیروں کے تاثرات پھر آپ کی وفات کے بعد دشمنوں کا خیال تھا کہ اب تو یہ جماعت گئی کہ گئی اب بظاہر کوئی نظر نہیں