مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 18
18 ارشادات حضرت خلیفہ المسح الخامس اید و اللہ تعالی مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم آتا کہ اس جماعت کو سنبھال سکے۔لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرت کے نظارے سب نے دیکھے۔بچوں نے بھی اور نو جوانوں نے بھی ، مردوں نے بھی اور عورتوں نے بھی اپنے ایمانوں کو مضبوط کیا۔حتی کہ غیر از جماعت بھی کیا مسلمان اور کیا غیر مسلمان سب نے ہی یہ نظارے دیکھے کیونکہ ایم ٹی اے کے ذریعے یہ ہر جگہ پہنچ رہے تھے۔لندن میں مجھے کسی نے بتایا کہ ایک سکھ نے کہا کہ ہم بڑے حیران ہوئے آپ لوگوں کا یہ سارا نظام دیکھ کر اور پھر انتخاب خلافت کا سارا نظارہ دیکھ کر۔پاکستان میں ہمارے ڈاکٹر نوری صاحب کے پاس ایک غیر از جماعت بڑے پیر ہیں یا عالم ہیں وہ آئے ( مریض تھے اس لیے آتے رہے ) اور ساری باتیں پوچھتے رہے کہ کس طرح ہوا، کیا ہوا اور پھر بتایا کہ میں نے بھی ایم ٹی اے پر دیکھا تھا۔دشمن بھی وہ جس طرح کہتے ہیں نہ کہ کھلے طور پر تو نہیں دیکھتے لیکن چھپ چھپ کر ایم ٹی اے دیکھتے ہیں۔یہ سارے نظارے دیکھے اور ڈاکٹر صاحب کو کہنے لگے کہ یہ ایسا نظارہ تھا جو حیرت انگیز تھا۔اور باتوں میں ڈاکٹر صاحب نے کہا ٹھیک ہے آپ کو پھر تسلیم کرنا چاہیے کہ جماعت احمد یہ بچی ہے۔کہتے ہیں کہ یہ تو میں نہیں کہتا ، یہ مجھے ابھی بھی یقین ہے کہ جماعت احمد یہ بچی نہیں ہے لیکن یہ مجھے یقین ہو گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی فعلی شہادت آپ کے ساتھ ہے۔تو جب اللہ تعالیٰ کی فعلی شہادت ہمارے ساتھ ہوگئی تو پھر اور کیا چیز رہ گئی۔یہ آنکھوں پر پردے پڑے ہونے کی بات ہے اور دلوں پر پردے پڑے ہونے کی بات ہی ہے۔اب اللہ تعالیٰ نے ایک ایسے شخص کو خلافت کے منصب پر فائز کیا کہ اگر دنیا کی نظر سے دیکھا جائے تو شاید دنیا کے لوگ اس کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھیں۔اس کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہ کریں لیکن خدا تعالیٰ دنیا کا محتاج نہیں ہے جیسا کہ حضرت مصلح موعود نے فرمایا کہ: خوب یا درکھو کہ خلیفہ خدا بناتا ہے اور جھوٹا ہے وہ انسان جو یہ کہتا ہے کہ خلیفہ انسانوں کا مقرر کردہ ہوتا ہے۔حضرت خلیفہ اسی مولوی نورالدین صاحب اپنی خلافت کے زمانے میں چھ سال متواتر اس مسئلے پر زور دیتے رہے کہ خلیفہ خدا مقرر کرتا ہے، نہ انسان۔اور در حقیقت قرآن شریف کو غور سے مطالعہ کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ ایک جگہ بھی خلافت کی نسبت انسانوں کی طرف نہیں کی گئی بلکہ ہر قسم کے خلفاء کی نسبت اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا ہے کہ انہیں ہم بناتے ہیں۔(انوار العلوم جلد 2 صفحہ 11)