مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 10
مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم 10 ارشادات حضرت خلیفہ المسح الخامس ایدہ اللہ تعالی طبیعت کمزور ہو چکی ہے اور شاید اس طرح خلافت کا کنٹرول نہ رہ سکے اور شاید وہ خلافت کا بوجھ نہ اٹھا سکیں اور انجمن کے بعض عمائدین کا خیال تھا کہ اب ہم اپنی من مانی کر سکیں گے۔کیونکہ عمر کی وجہ سے بہت سارے معاملات ایسے ہیں جو اگر ہم حضرت خلیفتہ المسیح الاول کی خدمت میں نہ بھی پیش کریں تب بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا اور ان کو پتہ نہیں چلے گا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے دشمن کی یہ تمام اندرونی اور بیرونی جو بھی تدبیریں تھیں ان کو کامیاب نہیں ہونے دیا اور اندرونی فتنے کو بھی دبا دیا اور دنیانے دیکھا کہ کس طرح ہر موقع پر حضرت خلیفہ امسیح الاول نے اس فتنہ کو دبایا اور کتنے زور اور شدت سے اس کو دبایا اور کس طرح دشمن کا منہ بند کیا۔آپ فرماتے ہیں: چونکہ خلافت کا انتخاب عقل انسانی کا کام نہیں، عقل نہیں تجویز کر سکتی کہ کس کے قومی قوی ہیں کس میں قوت انسانیہ کامل طور پر رکھی گئی ہے۔اس لیے جناب الہی نے خود فیصلہ کر دیا ہے کہ وعد الله الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ خلیفہ بنانا اللہ تعالیٰ ہی کا کام ہے وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ - حقائق الفرقان جلد سوم صفحہ 255 ) فرمایا کہ: ” مجھے نہ کسی انسان نے ، نہ کسی انجمن نے خلیفہ بنایا اور نہ میں کسی انجمن کو اس قابل سمجھتا ہوں کہ وہ خلیفہ بنائے پس مجھ کو نہ کسی انجمن نے بنایا نہ میں اس کے بنانے کی قدر کرتا ہوں اور اس کے چھوڑ دینے پر تھوکتا بھی نہیں اور نہ کسی میں طاقت ہے کہ وہ اس خلافت کی ردا ء کو مجھ سے چھین لے“۔(الفرقان ، خلافت نمبر مئی جون 1967 ، صفحہ (28) پھر آپ فرماتے ہیں کہ : ” کہا جاتا ہے کہ خلیفہ کا کام صرف نماز پڑھا دینا اور یا پھر بیعت لے لینا ہے۔یہ کام تو ایک ملاں بھی کر سکتا ہے اس کے لیے کسی خلیفے کی ضرورت نہیں اور میں اس قسم کی بیعت پر تھوکتا بھی نہیں۔بیعت وہ ہے جس میں کامل اطاعت کی جائے اور خلیفہ کے کسی ایک حکم سے بھی انحراف نہ کیا جائے“۔پھر دنیا نے دیکھا کہ آپ کے ان پر زور خطابات سے اور جو آپ نے اس وقت براہ راست انجمن پر بھی ایکشن لیے، جتنے وہ لوگ باتیں کرنے والے تھے وہ سب بھیگی بلی بن گئے ، جھاگ کی طرح بیٹھ ( الفرقان ، خلافت نمبر مئی جون 1967 ، صفحہ 28)