مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 144
مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم 144 ارشادات حضرت خلیفہ المسح الخامس ایدہ اللہ تعالی عمل ہونا چاہیے جو مرکزی طور پر دی جاتی ہیں۔اگر اس طرح نہیں کرتے تو پھر اپنے عہدے کا حق ادا نہیں کر رہے۔جو اس کے انصاف کے تقاضے ہیں وہ پورے نہیں کر رہے۔عہدہ کی خواہش معیوب امر ہے پھر عہدے کی خواہش کرنا ہے پہلے بھی میں نے کہا کہ یہ ایک ایسی بات ہے جو جماعت میں بڑی معیوب سمجھی جاتی ہے اور ہر اس شخص کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے جو اس بارے میں کوشش کرتا ہے۔اس بارے میں ایک حدیث میں اس طرح آتا ہے کہ حضرت عبد الرحمن بن سمرة رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا کہ اے عبدالرحمن ! تو امارت اور حکومت نہ مانگ۔اگر تجھے بغیر مانگے یہ عہدہ ملے تو اس ذمہ داری کے بارے میں تیری مدد کی جائے گی۔یعنی خواہش نہ ہو اور پھر عہدہ مل جائے تو پھر اللہ تعالیٰ اپنا فضل فرماتا ہے اور اپنے بندے کی مدد کرتا ہے۔اور اگر تیرے مانگنے پر تجھے یہ عہدہ دیا گیا ہے تو تو پھر اللہ تعالیٰ کی گرفت میں ہوگا۔ذراسی بھی غلطی ہوگی تو پکڑ بہت زیادہ ہوگی۔ضدیں، انا ئیں اور قسمیں جماعتی مفاد میں حائل نہ ہونے دیں اور جب تو کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے سے متعلق قسم کھائے اور پھر اس قسم سے برعکس تجھے بہتر بات نظر آئے تو وہ بہتر بات کر اور اپنی قسم کو توڑ دے اور اس کا کفارہ ادا کردے۔(بخاری کتاب الاحکام۔یہی ہے کہ عہدیداران کو بھی بعض دفعہ قسم تو نہیں کھاتے لیکن بعض ضد میں ہوتی ہیں کہ یہ کام اس طرح نہیں ہونا چاہیے تو اگر جماعت کے مفاد میں ہو تو پھر تمہاری ضدیں یا تمہاری قسمیں زیادہ اہم نہیں ہیں۔ان کو ختم کرو۔یہ جماعت کے مفاد میں حائل نہیں ہونی چاہئیں بلکہ تقویٰ سے کام لیتے ہوئے اس طرح کام ہونا چاہیے جس طرح جماعت کے حق میں بہترین ہو۔پھر ایک روایت میں آتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آسانی پیدا کرو اور تنگی پیدا نہ کرو۔اور اچھی خبر ہی دیا کرو اور لوگوں کو بد کا یا نہ کرو۔(صحيح البخارى كتاب العلم - باب ما كان النبى يتخولهم بالموعظة والعلم كي لا ينفروا)