مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 112
مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم 112 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس اید و اللہ تعالی ہیں الارم لگا کر سونا چاہیے تا کہ نماز کے وقت اُٹھ سکیں۔اپنے گھروں میں بڑوں کو کہیں کہ نمازوں کے لیے جگا دیں لیکن بعض بچے پھر بھی نہیں اٹھتے۔پھر ان کو کہنا چاہیے کہ پانی کے چھینٹے ماریں پھر اٹھادیں۔پھر جو بڑی عمر کے خدام ہیں۔اب چالیس سال تک کی عمر کے خدام ہوتے ہیں۔ان کو تو خود کوشش کر کے اٹھنا چاہیے۔اپنے بچوں کو اٹھانا چاہیے کیونکہ ان کے تو بچے بھی ہوتے ہیں آگے اس عمر کے کہ ان پر نماز میں فرض ہو جاتی ہیں اکثر کے۔پھر فجر کے علاوہ باقی نمازوں کی طرف بھی توجہ دینی چاہیے۔کھیلوں کا بھی انتظام کریں خدام الاحمدیہ نے پہلے بھی ان سنٹرز کے ساتھ کھیلوں کا انتظام کیا تھا۔کچھ جگہوں پر کیا ہوا ہے اور جہاں ہوتی ہیں اور میرا خیال ہے جن مجالس نے انعامات لیے ہیں وہ وہی مجالس ہیں جہاں نمازوں کی حاضری بھی بہتر ہے اور وہاں خدام اکٹھے ہوتے ہیں کھیلوں کے لیے بھی ، اجلاسوں کے لیے بھی اور نمازوں کے لیے بھی۔تو اگر اس طرح ہو جائے ہر جگہ ، امید ہے کچھ جگہ ہو گا بھی ، لیکن کچھ تھوڑی سی کوشش کی بھی ضرورت ہے تو مغرب اور عشاء کی نمازوں کی حاضری کافی بڑھ سکتی ہے۔تو یہ تو صرف ایک ذریعہ ہے کھیلوں کا میں نے بتایا قریب لانے کا نمازوں کے لیے ، ( بیوت الذکر ) کی طرف لانے کے لیے، ور نہ ایک مومن کی تو شان یہ ہے کہ اس کو فکر کے ساتھ نمازوں کی طرف توجہ دینی چاہیے۔پس اپنے اندر بھی ، اپنے بچوں کے اندر بھی یہ روح قائم کریں۔خدام الاحمدیہ کے شعبہ تربیت کو درسوں کی حاضری لکھنی چاہیے پھر نمازوں کے بعد درس سنے کی بھی عادت ڈالیں پانچ چھ منٹ کے درس ہوتے ہیں۔خود آپ بہت سی باتیں پڑھ نہیں سکتے۔کچھ اُردو پڑھ نہیں سکتے ، اور کچھ کے پاس کتا بیں نہیں ہوتیں۔یہ درس اسی لیے شروع کروائے گئے ہیں کہ قرآن ، حدیث اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کلام آپ تک پہنچے۔آپ کے علم میں آئے۔اگر یہ علم سیکھیں گے تو دنیاوی علم بھی آپ کے لیے کچھ فائدہ مند ہو گا اس کو بھی آپ اس کے ساتھ لگا کر اپنے روزمرہ کے معاملات میں بھی اپلائی (Apply) کر سکتے ہیں۔اور جو پڑہنے لکھنے والے زیادہ نوجوان ہیں۔ان کا یہ دینی علم اور قرآن کا علم سیکھنا بہت فائدہ مند ہوتا ہے۔