مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 108
مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم 108 ارشادات حضرت خلیفہ المسح الخامس اید و اللہ تعالی ہوتے ہیں کہ ان کو سمجھ ہی نہیں آتی کہ وہ کیسے خطر ناک کام کر رہے ہیں، کیسے کیسے خطر ناک کھیل کھیل رہے ہیں۔پھر بعض لوگ اپنی جان بچانے کے لیے یا یہ کہنا چاہیے اس کا مطلب ، محاورۃ میں نے کہا ہے۔چھوٹی سی ناراضگی سے بچنے کے لیے جھوٹ بول جاتے ہیں ، غلط بیانی کر جاتے ہیں۔آج کل جو بعض نوجوانوں میں جب میاں بیوی کے جھگڑے ہوں اس وقت یہ عام بیماری ہے ، غلط بیانی سے کام کرنا۔حالانکہ اگر ہر وقت یہ ذہن میں رکھیں کہ جھوٹ بولنا غلط بات ہے اور گناہ ہے۔اور غلط بات کہنا کتنا بڑا جرم ہے اور کسی کے دل میں نیکی ہے تو وہ یہ سوچ کر ہی کانپ جاتا ہے کہ اُس نے جو غلط بات کہی یا جھوٹی بات کہی ہے خدا تعالیٰ کے نزدیک وہ کتنا بڑا گناہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے تو بتوں کی پلیدی کو شرک اور جھوٹ کو اکٹھا رکھا ہے۔تو ہر احمدی کو ، چھوٹے بڑے کو اس سے بچنا چاہیے۔اور خاص طور پر نو جوانوں کو بچوں کو بھی اس طرف خاص توجہ دے کر ایک مہم چلانی چاہیے کہ اپنے اندر سے ہلکا سا ، جو جھوٹ کا شائبہ کہتے ہیں ، وہ بھی نہ رکھیں باقی۔اس کو بھی نکال کر باہر پھینک دیں اپنے اندر سے۔ایک احمدی خادم کو ، ایک احمدی طفل کو ہمیشہ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اس کی یہ نشانی ہو کہ وہ جھوٹ نہیں بولتا، وہ کوئی غلط بات نہیں کہتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو منافق کی یہ نشانی بتائی ہے کہ وہ جھوٹ بولتا ہے۔اور یہ کبھی سوچا بھی نہیں جاسکتا کہ کوئی احمدی بچہ ، نوجوان، مرد، عورت منافق بھی ہو سکتا ہے۔اس لیے کوشش سے اس بیماری کے اثر کو دور کریں۔ایک روایت میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چار باتیں ایسی ہیں جس میں پائی جائیں وہ خالص منافق ہے اور جس میں اس میں سے ایک بات بھی پائی جائے تو اس میں نفاق کی ایک خصلت پائی جاتی ہے یہاں تک کہ وہ اس کو چھوڑ دے۔پہلی بات یہ کہ جب وہ گفتگو کرتا ہے تو کذب بیانی سے کام لیتا ہے۔یعنی جھوٹی بات کرتا ہے۔دوسری بات یہ کہ جب معاہدہ کرتا ہے تو غداری کا مرتکب ہوتا ہے۔معاہدے ہوتے ہیں ان کو پورا نہیں کرتے تو یہ غداری ہے۔اس سے بھی نفاق پیدا ہوتا ہے۔تیسری بات یہ کہ جب وعدہ کرتا ہے تو وعدہ خلافی کرتا ہے۔اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر وعدے ہورہے ہوتے ہیں ان کو پورا نہیں کرتے۔لین دین کے معاملات میں وعدے ہو رہے ہوتے ہیں ان کو پورا نہیں کرتے۔