مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 57 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 57

مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم 57 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس اید و اللہ تعالی جیسا کہ میں پہلے بتا آیا ہوں کہ شیطان اس کوشش میں ہوتا ہے کہ کوئی فساد پیدا کرے اس لیے بعض دفعہ بعض لوگ اس لیے اکٹھے ہو جاتے ہیں اور آپس میں بیٹھ کر مشورے شروع ہو جاتے ہیں کہ جماعت کا یہ کام اس طرح نہیں ہونا چاہیے جس طرح امیر کہہ رہا ہے یا مرکزی عاملہ کہ رہی ہے یا بعض دفعہ مرکز کہہ رہا ہے بلکہ اس طرح ہونا چاہیے جس طرح ہم کہہ رہے ہیں کیونکہ ہم موقع پر موجود ہیں ، ان لوگوں کو کیا پتہ کہ یہ کام کس طرح کرنا ہے تو یہ جو مشورے ہیں، یہ جومجلسیں ہیں جہاں اس قسم کی باتیں ہو رہی ہیں چاہے تم بد نیتی سے نہیں بھی کر رہے تو تب بھی یہ خدا اور رسول کی نافرمانی کے زمرے میں آئیں گی اس لیے کہ جب نظام نے تمہیں واضح طور پر ایک لائن دے دی کہ ان پر چل کر کام کرنا ہے تو تمہارا فرض بنتا ہے کہ ان پر چل کر ہی کام کرو اس کے بارے میں اب علیحدہ بیٹھ کر چند آدمیوں کو لے کر مجلسیں بنا کر باتیں کرنے اور امیر کے احکامات سے روگردانی کرنے کا اب کوئی حق نہیں پہنچتا۔اگر نقص دیکھو تو امیر کو یا متعلقہ شعبہ کو یا خلیفہ وقت کو اطلاع کر دو اور بس۔اس کے بعد ایک عام احمدی کی ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے۔پھر دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کاموں میں برکت ڈالے تا کہ نظام جماعت پر کوئی زدنہ آئے۔اور مشورے کرنے ہیں تو اس بات پر کریں کہ اس میں جو سقم ہے ان کو اس دیئے ہوئے دائرے کے اندر جو ان لوگوں کو دیا گیا ہے کس طرح سقم دور کر سکتے ہیں اور جماعت کی بہتری کے سامان پیدا کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔اگر اس طرح نہیں کر رہے تو پھر سمجھیں کہ شیطان کے قبضے میں آگئے ہیں اور تقوی سے دور ہو گئے ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس بارے میں پوچھے جاؤ گے۔تو یہاں بعض دفعہ نظام بھی ایکشن لیتا ہے ایسے لوگوں کے خلاف ، اور اگلے جہان کے بارے میں تو اللہ میاں نے کہہ دیا کہ مجھ سے ڈرو۔۔۔۔لغو مجالس میں شریک نہ ہوں تو یہاں بھی مختلف قسم کے لوگ ہیں مختلف ملکوں سے آئے ہوئے ہیں ان یورپین ممالک میں بھی اور دوسرے ملکوں میں بھی آجکل تو معاشرہ اتنا مکس اپ (Mixup) ہو گیا ہے، آپ سے تعلق بھی بنتے ہیں، رابطے بھی ہوتے ہیں تو ایسے رابطوں کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ایسی دوستیاں اب قائم ہو جائیں اور دوستیاں بڑھانے کی خاطر ان لوگوں کی ہر قسم کی فضول مجلسوں میں بھی شامل ہوا جائے۔جیسا کہ حدیث میں آیا کہ جہاں مزاج کے مطابق بات نہ ہو۔اس مجلس سے اٹھ جانا چاہیے۔جہاں صرف شور شرابا اور بہو ہا ہورہا