مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 58
مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم 58 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس اید و اللہ تعالی ہے۔بلا وجہ غل غپاڑا مچایا جارہا ہے۔یہاں نوجوانوں میں اکثر بلا وجہ شور مچانے کی عادت ہے۔پھر غلط قسم کی لڑکوں اور لڑکیوں کی دوستیاں ہیں تو ان سے ہمارے نوجوانوں کو چاہیے کہ بچیں ان لوگوں میں تو یہ عادت اس وجہ سے بھی ہے کہ ان کو دین کا پتہ کچھ نہیں، ان کا دین کا خانہ خالی ہے۔ان کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کے مزے کا نہیں پتہ، اس لیے وہ اپنی باتوں میں، اس شور شرابے میں ، سکون اور سرور تلاش کر رہے ہوتے ہیں۔مگر ہمارے نو جوانوں کو ہمارے لوگوں کو تو اللہ تعالیٰ سے ملنے کے راستے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اس زمانے میں سکھا دیئے ہیں۔اس لیے ہمیشہ ایسی مجلسیں جو لہو ولعب کی مجلسیں ہوں، فضول قسم کی مجلسیں ہوں اور تاش اور ناچ گانے وغیرہ کی مجلسیں ہوں ، شراب وغیرہ کی مجلسیں ہوں ، ان سے بچتے رہنا چاہیے۔اگر انسانیت کی ہمدردی ہے تو یہ کوشش ضرور کرنی چاہیے کہ ان لوگوں کو بھی ان چیزوں سے بچانے کے لیے صحت مند کھیلوں کی طرف لائیں۔لیکن ان سے متاثر ہونے کی ضرورت نہیں۔جن دو مجالس کا میں نے ذکر کیا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری رہنمائی فرمائی ہے کہ کس قسم کی مجالس ہیں جن میں ہمیں بیٹھنا چاہیے۔اور مجالس کے حقوق کیا ہیں اور آداب کیا ہیں۔ایک روایت میں آتا ہے، ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجالس تین قسم کی ہوتی ہیں۔سلامتی والی ، غنیمت والی یعنی زائد فائدہ دینے والی اور ہلاک کرنے دینے والی مجالس“۔(مسند احمد باقی مسند المکثرین مسند ابی سعید الخدری) تو جیسا کہ پہلے بھی ذکر گزر چکا ہے کہ ایسی مجلسوں سے ہمیشہ بچنا چاہیے جو دین سے دور لے جانے والی ہوں ، جو صرف کھیل کود میں مبتلا کرنے والی ہوں۔ایسی مجلسیں جو اللہ تعالیٰ سے دور لے جانے والی مجلسیں ہیں وہ یہی نہیں کہ صرف اللہ تعالیٰ سے دور لے جاتی ہیں بلکہ بعض دفعہ مکمل طور پر، بعض دفعہ کیا یقینی طور پر انسان کی ہلاکت کا سامان پیدا کر دیتی ہیں۔اس لیے ہمیشہ ایسی مجالس کی تلاش رہنی چاہیے جہاں سے امن وسکون اور سلامتی ملتی ہو۔سلامتی والی مجالس تو سلامتی والی مجالس کیسی ہیں۔اس بارے میں ایک روایت ہے۔حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کسی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ہم نشیں کیسے ہوں۔کن لوگوں کی مجلس میں ہم